ایران کی مغربی کنارے پر صہیونی قبضہ جمانے سے متعلق نیتن یاہو کے عزائم کی مذمت

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے مقبوضہ فلسطین کی طرح مغربی کنارے پر صہیونی ناجائز قبضہ جمانے سے متعلق نیتن یاہو کی جانب سے انتخابی مہم اور وعدوں کی شدید مذمت کی ہے.

"سید عباس موسوی" نے مزید کہا کہ عرب دنیا کی قیادت کے دعوے دار ممالک نے غیر اہم امور اور یمن میں صہیونی ریاست کی حمایت سے جنگ اور قتل پر مصروف ہونے سمیت نتین یاہو سے متحد ہونے کیساتھ اس خبیث ریاست کیلئے اپنے مذموم عزائم کو عام کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناجائز صہیونی ریاست کبھی ایران کیخلاف الزم لگانے اور کبھی وادی اردن کو صہیونی ریاست میں شامل کرنے کے اعلان کیساتھ  اقتدار میں رہنے سمیت  اپنے جارحیت پسندانہ اور تسلط پسندانہ رویوں کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

ترجمان محکمہ خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ناجائز صہیونی ریاست کی جارحیت اور اس کے تسلط پسندانہ رویوں کی روک تھام کے حوالے سے اسلامی ممالک کے ہر کسی اقدام کی حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ناجائر صہیونی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو نے وادی اردن کو صیہونی ریاست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ آج میں اپنے ارادے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں الیکشن جیت گیا تو وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر صیہونی اجاراداری قائم کر دوں گا۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ یہ قدم میں الیکشن کے بعد اسی وقت اٹھا سکوں گا جب اسرائیلی عوام مجھے واضح مینڈیٹ دیں۔

خیال رہے کہ 2400 اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار کا مغربی کنارے کا تقریبا 30 فیصد بنتا ہے جہاں 65 ہزار فلسطینی اور تقریبا 11 ہزار یہودی آبادکار بستے ہیں، یہ علاقہ ناجائر صہیونی ریاست کی فوج کے کنٹرول میں ہے جسے "سی ایریا" بھی کہا جاتا ہے۔
*274**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =