9 ستمبر، 2019 10:02 AM
Journalist ID: 1917
News Code: 83470302
0 Persons
عالمی جوہری ادارہ امریکہ سے منسلک ادارہ نہیں: ایران

تہران، ارنا- بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ عالمی جوہری توانائی ادارہ امریکی حکومت سے منسلک ادارہ نہیں جو بولٹن اس کے عہدیداروں کے دوروں کے ایجنڈے کو مرتب کرسکیں۔

"کاظم غریب آبادی" نے ایک ٹوئٹر پیغام میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر"جان بولٹن" کے حالیہ اظہارات پر ردعمل کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی جوہری توانائی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل "کورنل فروٹا" کا حالیہ دورہ ایران، اسلامی جمہوریہ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان باہمی تعاون کے سلسلے میں تھا۔

غریب آبادی نے ایران کی طرف سے پوشیدہ جوہری سرگرمیوں کے کسی بھی الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فروٹا کے حالیہ دورہ ایران کا بولٹن کی خواہش کے مطابق کوئی خاص ایجنڈا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ اس دورے میں جوہری معاہدے کی توثیق، اضافی پروٹوکول اور جامع سیف گارڈز معاہدے کے تین شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ادارہ اور ایران کے تعمیری اور فعال تعاون میں خلل ڈالنے اور روکنے کی کوئی بھی کوشش اور آئی اے ای اے پر غیر مناسب دباؤ ڈالنا مکمل طور پر تباہ کن ہوگا اور یقینا اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس طرح کے اقدامات کا جوابی کاروائی کرے گا۔

 واضح رہے کہ امریکی قومی مشیر جان بولٹن نے ایک ٹوئٹر پیغام میں دعوی کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کی روشنی میں جاری کردہ آئی اے ای اے کی نئی رپورٹ، ایران کیجانب سے غیر اعلانیہ جوہری سرگرمیوں کی نشاندہی کر رہی ہے۔
**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 2 =