ایران کا جوہری معاہدے پر تیسرا فیصلہ امریکی پابندیوں پر جواب ہے: روس

ماسکو، ارنا - روس کے ایوان زیریں 'ڈوما' کے چیئرمین بین الاقوامی امور کمیٹی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے کے وعدوں کی معطلی سے متعلق تیسرا فیصلہ امریکی پابندیوں کے جواب میں اٹھایا.

یہ بات "لئونید سلوتسکی" نے جمعہ اپنے ٹیلگرام پیج میں کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، ایران کو جوہری معاہدے سے نکلنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے لئے یورپی یونین پر دباؤ ڈال رہا ہے.
سلوتسکی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے فیصلے امریکی نئی پابندیاں، یورپی یونین کے مالیاتی نظام کی کمزوری اور ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانے کے جواب میں ہیں.
انہوں نے کہا کہ امریکہ واشنگٹن کے تحت ایران مخالف یورپی پابندیوں کی نئی تجدید کے لئے بھرپور کوشش کر رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس اس امید کا اظہار کر رہا ہے کہ ایران مخالف پابندیوں کو بڑھانا، ایران کو تنہائی کا شکار کرنے کی پالیسی، خلیج فارس کی صورتحال کو خراب کرنے کے ساتھ اس ملک کو اندرونی مشکل کا سامنا ہوگا.
روس کے ایوان زیریں 'ڈوما' کے چیئرمین بین الاقوامی امور کمیٹی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی درخواست سنجیدہ نہیں ہے.
یاد رہے کہ ظریف نے گزشتہ روز یورپی یونین کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کے نام لکھے جانے والے خط میں اس بات پر زور دیا کہ ہمارے اقدامات جوہری معاہدے کی شق نمبر 36 جو ایرانی مفادات کی فراہمی کے مطابق اور گزشتہ 16 مہینوں کے دوران یورپی فریقین کے وعدوں پرعمل کی کمزوری کے جواب میں ہیں.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =