جوہری معاہدہ: ایران کا تیسرا فیصلہ، امریکی اقدامات کا نتیجہ

تہران، ارنا - عالمی میڈیا اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنے کی امریکی پالیسی سفارتی کوششوں کی ناکامی کی اصل وجہ ہے جس کے نتیجے میں صدر مملکت ایران نے جوہری معاہدے کے وعدوں کی معطلی سے متعلق تیسرے فیصلے کا اعلان کردیا.

وائٹ ہاوس کی اینٹی ایران پالیسی کے ایک اور خطرناک نتیجے سے فرانسیسی صدر کی سفارتی پیشکش بھی ناکام ہوئی.

ایران کی جانب سے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں کی معطلی کے لئے دو فیصلوں کے بعد، آج صدر روحانی نے تیسرے فیصلے کا اعلان بھی کردیا.

ٹرمپ کے غلطی موقف کی وجہ سے گزشتہ ہفتوں کے دوران بعض ممالک سمیت فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی سفارتی کوششوں سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگیا۔
صدر روحانی نے جمعہ کے روز سے جوہری وعدوں کی کمی کے تیسرے مرحلے کے نفاذ کا حکم دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق جتنی ترقی اور ریسرچ کی ضرورت پڑی تو قومی ادارہ برائے جوہری امور اس کو یقینی بنائے گا.
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عالمی جوہری توانائی ادارے کے قوانین کے تحت اقدامات اٹھائے گا تاہم یورپ کو مزید 60 روز کا الٹی میٹم دیا جائے گا لہذا جب وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے گا تو ہم بھی اپنے اقدامات واپس کریں گے.
ایرانی صدر نے کہا کہ جوہری معادے سے علیحدگی کے بعد 4+1 ممالک اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرسکیں لہذا گزشتہ 4 مہینوں سے جوہری وعدوں کی کمی کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ دو مرحلوں میں یورنیم کی افزودگی کو بڑھانے کے علاوہ یورپی فریقین کو 60 دن الٹی میٹم دے دیا مگر کوئی مناسب نتیجہ حاصل نہ ہونے کی وجہ سے تیسرے فیصلے کو اٹھایا۔
قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی نئی پابندیاں سمیت تیل اور نقل و حمل کی صنعت کو نشانہ بنانے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی ایران کے تیسرے قدم کا اعلان کیا گیا۔
روحانی نے پر زور دیا کہ ہمارے اقدامات ملکی ترقی پر مبنی ہیں اور ہمارا اگلا فیصلہ عالمی جوہری ادارے کی نگرانی اور پرامن اقدامات کے فریم ورک کے مطابق ہے.
274٭9393٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =