جوہری معاہدہ: ایران نے جوہری ترقی اور ریسرچ سے متعلق اپنے تمام وعدوں کو ختم کردیا

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور اس کے نفاذ میں یورپی فریقین کی وعدہ خلافی کے جواب میں وعدوں کی معطلی کا تیسرا فیصلہ اٹھایا جس کے مطابق اب جوہری ترقی اور ریسرچ کے حوالے سے ایران کسی وعدے کا پابند نہیں.

ترجمان دفتر خارجہ سید عباس موسوی نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ وزیرخارجہ «حمد جواد ظریف» نے سربراہ یورپی یونین برائے خارجہ پالیسی «فیڈریکا مغرینی» ایک خصوصی خط کے ذریعے انھیں ایران کے حالیہ فیصلے سے آگاہ کردیا ہے.
ظریف نے لکھے جانے والے خط میں اس بات پر زور دیا کہ ہمارے اقدامات جوہری معاہدے کی شق نمبر 36 جو ایرانی مفادات کی فراہمی کے مطابق اور گزشتہ 16 مہینوں کے دوران یورپی فریقین کے وعدوں پرعمل کی کمزوری کے جواب میں ہیں.
انہوں نے کہا کہ ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کو جلد جوہری ترقی اور ریسرچ کے حوالے سے تکنیکی اور آپریشنل سرگرمیوں کو روکنے سے متعلق وعدوں کے خاتمے کا کا طریقہ پیش کردیا جائے گا.
ترجمان کے مطابق، وزیر خارجہ نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے حسن سلوک کی مبنی پر جوہری معاہدے کے باقی رکن ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اگر وہ اپنے وعدوں پر عملدرآمد کریں تو ہمارے اقدامات بھی واپس ہوں گے.
تفصیلات کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے گزشتہ روز یہ اعلان کیا تھا کہ یورپی وعدہ خلافی کے ردعمل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کے وعدوں کی معطلی سے متعلق تیسرا فیصلہ اٹھایا جائے گا.
274٭9393٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 4 =