جوہری معاہدے کے وعدوں کی معطلی، ایران کل تیسرا فیصلہ اٹھائے گا: صد روحانی

تہران، ارنا - ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ اعلان کردیا ہے کہ یورپی وعدہ خلافی کے ردعمل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کے وعدوں کی معطلی سے متعلق تیسرا فیصلہ کل بروز جمعہ اٹھایا جائے گا.

ڈاکٹر روحانی نے چیف جسٹس اور اسپیکر پارلیمنٹ کے ساتھ ایک مشترکہ نشست کے بعد مزید کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق جتنی ترقی اور ریسرچ کی ضرورت پڑی تو قومی ادارہ برائے جوہری امور اس کو یقینی بنائے گا.

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عالمی جوہری توانائی ادارے کے قوانین کے تحت اقدامات اٹھائے گا تاہم یورپ کو مزید 60 روز کا الٹی میٹم دیا جائے گا لہذا جب وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے گا تو ہم بھی اپنے اقدامات واپس کریں گے.
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ 16 مہینوں کے دوران ایرانی نظام کی تبدیلی، کمزوری اور سخت پابندیوں کے مقاصد کا حصول بھی چاہتا ہے اور ساتھ مذاکرات کرنے کا بھی دعویدار ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے لہذا اسے عالمی قوانین اور وعدوں کی پاسداری پر پر مجبور ہوگا.
انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد گروہ 1+4 ممالک اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرسکے اسی لئے ایران نے جوہری وعدوں میں کمی لانے کے اقدامات اٹھائے.
انہوں نے کہا کہ ایران نے یورپی ممالک کو پہلے اور دوسرے مرحلے میں 60 روز الٹی میٹم دئے مگر مغربی فریقین کے ساتھ اب تک کے مذاکرات سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اسی لئے ایران کل بروز جمعہ اپنا تیسرا فیصلہ اٹھائے گا.
صدر روحانی نے کہا کہ تیسرے فیصلے کے مطابق ایران کو جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق جتنی ترقی اور ریسرچ کی ضرورت پڑی تو قومی ادارہ برائے جوہری امور جوہری وعدوں سے ہٹ کر ان ضروریات کو پورا کرے گا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے اقدامات ملکی ترقی پر مبنی ہیں اور ہمارا اگلا فیصلہ عالمی جوہری ادارے کی نگرانی اور پرامن اقدامات کے فریم ورک کے مطابق ہے.
274٭9393٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 9 =