4 ستمبر، 2019 11:11 AM
Journalist ID: 2392
News Code: 83464641
0 Persons
ایران، دہشتگردی کا شکار بڑا ملک

تہران، ارنا - وطن عزیز ایران میں اسلامی انقلاب کی عظیم کامیابی کے بعد دہشتگردوں نے اس ارض پاک کو اپنی سفاکانہ کاروائیوں کا نشانہ بنایا اور لاکھوں ایرانی سویلین جن میں بچے، خواتین، نوجوان، سائنسدان، ملکی حکام، علمائے کرام اور طلبا شامل ہیں، کو شہید کیا.

غیرملکی عناصر اور انقلاب مخالف دہشتگرد گروہوں کی متعدد شیطانی کاروائیوں میں اب تک 17 ہزار ایرانی شہری شہید ہوچکے ہیں. مظلوم ایرانی شہریوں کے خون بہانے میں سفاک تنظیم منافقین کا بڑا ہاتھ ہے.
منافقین تنظیم نے سویلین کو نشانہ بنانے کے علاوہ اعلی ایرانی سیاسی رہنما، علما اور جامعات کے طلبا کو بھی شہید کیا ہے.
منافقین دہشتگرد گروہ نے 28 جون 1981 میں اسلامی جمہوریہ جماعت کے دفتر کو بم سے اڑایا جس میں حکومتی ارکان کے 70 افراد بالخصوص اس وقت کے چیف جسٹس علامہ سید محمد بہشتی نے بھی جام شہادت نوش کیا.
منافقین دہشتگرد گروہ نے اس واقعے کے دو مہینے کے بعد ایرانی صدارتی دفتر کو دھماکہ سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں اس وقت کے صدر "محمد علی رجایی" اور وزیر اعظم "محمد جواد باہنر" شہید ہوگئے.
انقلاب مخالف دہشتگرد گروہوں کے اراکین نے 1999 کے 10 اپریل کو اس وقت کے ایرانی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بڑیگیڈیئر جنرل "علی صیاد شیرازی" کو اپنے گھر کے سامنے شہید کردیا.
1998 کے 8 اگست کو طالبان فورسز نے افغانستان کے شہر مزار شریف پر حملہ کرتے ہوئے 11 ایرانی سفارتکار اور ایک ایرانی صحافی کو شہید کیا.
2007 کے 14 فروری کو جنوبی شہر زاہدان کے علاقے احمد آباد میں ایرانی فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بس کے سامنے بارود سے بھری گاڑی کو روکا گیا جس کے دھماکے کے نتیجے میں 18 فورسز نے جام شہادت نوش کیا.
2008 کے اپریل کو ایرانی صوبے فارس کے شہر شیراز میں ایک مسجد کو بم سے اڑایا گیا جس کے نتیجے میں 14 شہید اور 200 افراد زخمی ہوگئے.
2010 کے 14 دسمبر کو جنوب مشرقی علاقے چابہار میں ایک مسجد کے سامنے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 38 افراد شہید ہوگئے.
دوسری طرف سے2010 سے 2012 تک چار ایرانی سائنسدان دہشتگردی حملوں میں شہید ایک اور زخمی ہوگئے.
دہشتگردوں نے 2017 کے 7 جون کو باتی انقلاب امام خمینی (رح) کے مزار اور ایرانی پارلیمنٹ پر حملہ کرتے ہوئے 17 افراد کو شہید کردیا.
2018 کے 22 ستمبر کو جنوبی شہر اہواز میں فوجی پریڈ کو دہشتگردی حملوں کا شکار ہوگیا.
2018 کے 6 دسمبر کو جنوب مشرقی شہر چابہار میں پولیس سنٹر کے قریب میں ایک کار بم پٹھنے کے نتیجے میں دو پولیس فورسز شہید 12 افراد زخمی ہوگئے.
گزشتہ سالوں کے دوران ایرانی جوہری سائسندانوں نے جو ملکی ایٹمی سائنس کی ترقی پر سرگرم عمل تھے، ناجائز صہیونی ریاست اور ان کے اتحادی کے ذریعہ جام شہادت نوش کیا.
یہ اعدادوشمار گذشتہ چار دہائیوں کے دوران ایرانی عوام اور عہدیداروں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کا ایک چھوٹے کا حصہ ہیں.
ایرانی عوام کے خلاف دہشتگردی کاروائیوں کی رپورٹ بہت ہی تفصیلی اور طویل ہے.
اسلامی جمہوریہ ایران کو گزشتہ 40 سالوں کے دوران پابندیوں اور معاشی دہشتگردی کو نشانہ بنا لیا گیا ہے.
1979 کے نومبر کو امریکہ نے پہلی بار کے لئے ایران مخالف پابندیاں عائد کرتے ہوئے تمام ایرانی اثاثوں سمیت بینک اکاؤنٹ، سونا اور 12 ارب ڈالر تک دیگر اثاثوں پر قبضہ کرلیا.
سابق امریکی صدر رونالڈ ریگان نے 1987 کو ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرلی 1995 کو ایک بار پھر ایران کے ساتھ باہمی تعاون کرنے والی غیرملکی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی.
2018 کے 8 مئی کو عالمی جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے ساتھ ایک بار پھر ایران مخالف پابندیوں کی تجدید کی۔ واشنگٹن نے غیرقانونی، یک طرفہ اور غیرانسانی پابندیوں کے علاوہ ایران پر پابندیوں کے لئے دوسرے ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے جسے ایرانی عوام کے خلاف معاشی دہشتگردی کی واضح علامت ہے.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 12 =