پاک ایران وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ، کشمیر پر تبادلہ خیال

 اسلام آباد، ارنا- پاکستان کے وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں ان کیساتھ برصغیر کی تبدیلیوں بالخصوص کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹ کے مطابق "شاہ محمود قریشی" نے منگل کے روز "محمد جواد ظریف" کیساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو کشمیر کی حالیہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

قریشی نے کشمیر میں انسانی بحران میں اضافہ اور سویلین کیخلاف تشدد سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ بین الاقوامی برداری بالخصوص امت مسلمہ، کشمیری مسلمان عوام کی اس ابتر صورتحال کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے برصغیر کی حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے کی کشیدگی میں اضافہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز نے بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے عدلیہ کے سربراہ نے دنیا کی ساری عدالتی اور حقوقی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کی اجازت نہ دیں۔

چیف جسٹس علامہ "سید ابراہیم رئیسی" نے بھارت اور پاکستان سے کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ سپریم لیڈر ایران حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بھی حالیہ دنوں میں وادی کشمیر میں مسلمانوں کی ابتر صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر کے تہذیب یافتہ عوام سے انصاف پر مبنی رویہ اختیار کرے.

انہوں نے مزید فرمایا کہ ایران کے بھارت سے اچھے تعلقات تو ہیں مگر ہماری توقع ہے کہ بھارت منصفانہ رویہ اپنائے اور کشمیر کی تہذیب یافتہ قوم پر جبر نہ کیا جائے.

سپریم لیڈر نے فرمایا کہ کشمیر کی حالیہ صورتحال اور پاکستان و بھارت کے درمیان اختلافات کی اصل وجہ خبیث برطانیہ ہے جو برصغیر میں ایسے حالات پیدا کرکے یہ علاقہ چھوڑ گیا.

انہوں نے مزید فرمایا کہ برطانیہ نے کشمیر کے مسئلے کو طول دینے کے لئے خطے پر اس زخم کو تازہ رکھا.

اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران  کے ترجمان نے بھی  گزشتہ ہفتوں کے دوران بھارت کی جانب سے کشمیر میں سخت حفاظتی اقدامات بالخصوص مسلمانوں کو مذہبی فرائض سرانجام دینے میں درپیش مشکلات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے.

"سید عباس موسوی" کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات آرہی ہیں جن کے مطابق وادی کشمیر میں سخت حفاظتی اقدامات کی وجہ سے مسلمان آبادی کو متعدد مشکلات کا سامنا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی اقدامات کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنے دینی فرائض ادا کرنے میں بھی مشکلات ہیں.

ایرانی ترجمان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ موثر اقدامات اٹھائے اور کشمیر میں عوام کی زندگی کو معمول کے مطابق لائے تا کہ تمام شہری اپنے قانونی حقوق سے استفادہ کرسکیں.

یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کردی تھی اور اس غیر آئینی اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ اس دوران تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے تھے۔

پاکستان کی جانب سے اس غیر قانونی اقدام پر شدید مذمت اور احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ عالمی برادری کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی متحرک نظر آرہے ہیں۔

اسی سلسلے میں پاکستان نے اقوام متحدہ سے خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ کشمیر کی صورتحال پر اجلاس طلب کیا جائے، چنانچہ پاکستانی خط پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، اس بند کمرہ اجلاس میں اراکین نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی۔
**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 1 =