ظریف کا بوشہر اور چابہار میں ایران روس تعاون پر شبہات کا جواب

ماسکو، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے ملک کے جنوبی شہر بوشہر اور ساحلی بندرگاہ چابہار میں ایران اور روس کے ممکنہ تعاون کے شبہات کے رد عمل میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

"محمد جواد  ظریف" نے ماسکو میں ایران کے امور کے ماہرین سے ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان بحر ہند میں مشترکہ مشق کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے جس میں دوسرے ممالک کی شرکت کا امکان بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک مشترکہ جامع مشق ہے جو نہ صرف کسی خاص ملک کیخلاف نہیں بلکہ سارے ممالک کی سلامتی کو فراہم کرنے کے حوالے سے انعقاد کیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کیجانب سے خلیج فارس میں ڈرون بھیجنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے علاقے کو مزید فوجی موجودگی کے ذریعے پُرامن نہیں بنایا جا سکتا ہے۔

ظریف نے مزید کہا کہ برطانیہ جان لے کہ وہ نہ بحری جہازوں اور نہ ہی ڈرونز کے ذریعے اپنے آئل ٹینکرز کو بچا سکتا ہے بلکہ وہ صرف بین الاقوامی قوانین پرعمل کرنے کے ذریعے سب کی سلامتی کو فراہم کرسکتا ہے۔

انہوں نے برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک طرف بحری قزاقی میں حصہ لیتے ہوئے دوسری طرف سمندری سلامتی کی فراہمی کا توقع نہیں رکھ سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ان کا یقین ہے کہ خطے مین مزید فوجی موجودگی صرف علاقے میں عدم استحکام کا باعث ہوگا۔

ظریف نے مزید کہا کہ ایران کی خلیج فارس میں 2 ہزار کلومیٹر کی سمندری سرحدیں ہیں لہذا ایران کے سوا خطے میں سلامتی کی فراہمی کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے بغیر خطے کی سلامتی کو فراہم کرنے کی تمام کوششیں لاحاصل ہیں۔

انہوں نے امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف سمندری فوجی اتحاد کی تشکیل کو دشمنی پر مبنی اقدام قرار دیا اور کہا کہ اگر کوئی ملک اس میں شامل بن جائے تو وہ ایران کیخلاف دشمنی کے راستے میں قدم رکھے گا۔

ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور روس کا علاقائی سلامتی کیلئے ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔
**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 9 =