ایران اور روس کے تجارتی توازن میں 17 فیصد کا اضافہ ہوا ہے: روس

ماسکو، ارنا-  روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ عیسوی سال کے ابتدائی 6 مہینوں کے دوران، ایران اور روس کے درمیان تجارتی توازن میں 17 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سرگئی لاوروف" نے پیر کے روز اپنے ایرانی ہم منصب "محمد جواد ظریف" کیساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور روس کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات بڑھتے جار رہے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ ملاقات میں باہمی دلچسبی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لاوروف نے مزید کہا کہ ایران اور روس مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ میں دلچسبی رکھتے ہیں۔

انہوں نے امریکہ کیجانب سے ایران اور روس کیخلاف دباؤ میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے اس اقدام کا مقصد ایران اور روس کے تجارتی تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی خواہش کے برعکس ایران اور روس کے درمیان تجارتی توازن میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔

 روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ، جوہری معاہدے سے علیحدگی کے باجود ایران کیجانب سے اس معاہدے پر من و عن عمل کرنے کا توقع رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جوہری معاہدے سے متعلق ایران کے نئے فیصلوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ایران کے ان اقدامات کو امریکی یکطرفہ اقدامات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

لارورف نے کہا کہ امریکہ، ایران کو جوہری معاہدے سے علیحدگی کیلئے اکسا رہا ہے تا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرے اور امریکہ کو ایران کیخلاف اقدامات اٹھانے کا بہانہ مل جائے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 2 =