جوہری معاہدے پر عملدرآمد میں کمی لانے کا تیسرا فیصلہ تیار ہے: ایران

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد میں کمی لانے سے متعلق ایران کی جانب سے تیسرا فیصلہ اٹھانے کے لئے تیار ہے تاہم سفارتی کوششوں کی کامیابی کی صورت تیسرے فیصلے کو موخر کیا جاسکتا ہے.

"سید عباس موسوی" نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے سفارتکاری، تعامل اور مذاکرات میں دینے والے مواقع اور جوہری معاہدے پر باقی رکن ممالک کے وعدوں پر عملدرآمد کرنے کے بیکوقت میں ایران کے وعدوں کو کم کرنے کا تیسرا قدم ڈیزائن اور نفاذ کے لئے تیار ہے۔
انہوں نے ایران اور فرانس کے صدور کے درمیان ٹیلی فونک رابطے، پیر کے روز نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور "سید عباس عراقچی" کے ایک بار پھر دورے پیرس اور تین روز کے دوران دوبار کے لئے ظریف کے دورے فرانس کو جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارتی کوششوں کو قرار دے کر کہا کہ ان تمام اقدامات کے باوجود ان کوششوں کی ناکامی اور یورپی فریقین کی کمزوری کی صورت میں ہم جوہری وعدوں کی کمی کے تیسرے فیصلہ اٹھائیں گے.
موسوی نے مزید کہا کہ ایران کا تیسرا مرحلہ ڈیزائن، نفاذ کے لئے تیار، پہلے اور دوسرے مرحلوں سے مستحکم تر ہوگا تا کہ جوہری معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مابین توازن پیدا ہوگا.
ایرانی ترجمان نے کہا کہ اگر یہ تجاویز اور مذاکرات جو جوہری معاہدے کے نفاذ اور یورپ کے وعدوں کی مبنی پر ہیں، مکمل نفاذ ہوئے تو ہم تیسرے اقدام کو نہیں اٹھائیں گے.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر شرائط مناسب اور قابل قبول ہوئی تو پہلے اور دوسرے مرحلوں پر نظرثانی ممکن ہے.
انہوں نے کہا کہ اگر اس صورتحال کچھ پہلے مہینوں میں واپس آ جائی تو اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر جوہری معاہدے میں اپنے وعدوں کو مکمل پورا کرے گا.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 1 =