جوہری معاہدے پر عمل درآمد رکنے کا تیسرا فیصلہ نہ اٹھانے کا امکان ہے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر یورپ جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے تو یہ امکان ہے کہ ایران بھی اس معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد رکنے کا تیسرا فیصلہ نہ اٹھائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ ایرانی صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحانی" نے یورپی ممالک کو اپنے پہلے خط میں لکھا تھا، اگر یورپ، جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے تو اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے جوہری معاہدے کےعمل درآمد کے رکنے کے تیسرے فیصلے کے عدم نفاذ کا امکان ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے اتوار کے روز ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ظریف نے کہا کہ ایران کیجانب سے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں سے دستبرداری کے تیسرے مرحلے سے متعلق کئی تجاویز پیش کی گئی ہیں اور ہم فیصلے کے آخری مرحلے میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یورپی ممالک 5 ستمبر تک مناسب اقدامات نہ اٹھائیں تو مئی مہینےمیں جوہری معاہدے سے متعلق ایران کے نئے فیصلے کے مطابق ہم یورپی ممالک کو خط لکھ کر اس معاہدے کے عمل درآمد کو رکنے کے تیسرے مرحلے کا نفاذ ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے عمل درآمد رکنے کے تیسرے فیصلے سے متعلق ایرانی حکومت کا موقف واضح ہے جو حتمی ہونے کے بعد اعلان کیا جائے گا۔

ظریف نے فرانسیسی صدر "ایمانوئل میکرون" کیساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے بعد ایرانی صدر اور ان کے فرانسیسی ہم منصب کے درمیان ٹلی فونک رابطہ اورعلاوہ از این نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور  "سید عباس عراقچی" کے مستقبل دورہ فرانس کے تناظر میں فرانسیسی حکومت کیجانب سے نئی تجویز سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی مذاکرات کی میز کو نہیں چھوڑا۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں پرعمل درآمد کرنے کیلئے تیار ہے اور اگر یورپی ممالک اپنے وعدوں پرعمل کریں تو ایران بھی پچھلے کی صورتحال پر واپس آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے متعلق ایران کا نیا اقدام اس معاہدے کی شق نمبر 36 کے مطابق ہے اور ہم جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے عراقچی کے آئندہ دورہ فرانس کی وجوہات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس دورے کے دوران یورپ کے اقدامات کے حوالے سے مذاکرات کیے جائیں گے۔

ظریف نے ایران کیلئے یورپ کا مخصوص مالیاتی نظام جسے انسٹیکس میکنزم کے نام سے معروف ہے کے بارے میں کہا کہ انسٹیکس یورپی ممالک کیجانب سے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدون پر عمل درامد کرنے کا پیش خیمہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے اراکین نے 11 وعدے کیے ہیں تا ہم اسلامی جمہوریہ ایران کبھی چین اور روس کو یورپی ممالک کیساتھ ترازو کے ایک پلڑے میں نہیں رکھے گا کیونکہ ان دونوں ممالک نے ایران کیساتھ اپنے باہمی تعلقات کا سلسلہ جاری رکھا ہے جبکہ یورپی ممالک تقریبا ایران کیساتھ اپنے تعلقات کو منقطع کیا۔

*274**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 5 =