صدر میکرون کی تجویز کا جائزہ لینے کے لئے فرانس کا دورہ کروں گا: ظریف

اوسلو، ارنا-   اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ صدر روحانی کی ہدایت سے فرانسیسی صدر "ایمانوئل میکرون" کی تجویز کا جائزہ لینے کیلئے فرانس کا دورہ کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے جمعرات کے روز، اپنی نارویجین ہم منصب "اینہ اریکسون سوریدہ" کیساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مستقبل قریب میں اپنے دورہ فرانس سے متعلق بات کرتے ہوئے ایران اور فرانس کے درمیان مشترکات کا ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ان مشترکات کا فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں بہت سارے چلینجر کا سامنا ہے اور ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ دنیا یکطرفہ اقدامات سے نہیں چلے گی بلکہ سب کو  بین الاقوامی حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی نارویجین ہم منصب کیساتھ حالیہ ملاقات میں آزاد کشتی رانی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات ہماری پالیسیوں کی اہم جز ہونی چاہیے او سب کو اس پر قائم رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ صرف آبنائے ہرمز میں پُرامن  جہازرانی برقرار ہو مگر جبل الٹر میں ایسے اصول اور قوانین قائم نہ ہو۔

ظریف نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ایرانی آئیل ٹینکر کو بحری قزاقی کا شکار ہوا جبکہ ہمارے آئیل ٹینکر نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے میں میری ٹائم سیکورٹی کا سب سے اہم محور ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں سیکورٹی اہلکاروں کے اضافے سے قیام امن برقرار کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس ملاقات میں ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے یورپ کے وعدوں کی یاد دہانی کرائی اور اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے کے تمام فریقین کو اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

ظریف نے مزید کہا کہ انہوں نے ناروے کی وزیر خارجہ کیساتھ انسانی حقوق سمیت اسلام فوبیا اور مسلمانوں کے حقوق کی حمایت کے حوالے سے اچھے اور تعمیری مذاکرات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں افغان مسئلہ کے بارے میں بات چیت کی گئی اور افغانستان میں ناروے کے تعمیری کردار پر زور دیا گیا۔

ظریف نے مزید کہا کہ اجتماعیت کے قانون کا احترام کرنا، ہماری سب سے بڑی تشویش ہے۔

 اس موقع پر نارویجین وزیر خارجہ نے امریکی سمندری اتحاد میں ناروے کی شمولیت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ خلیج فارس میں بدامنی پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہ علاقہ ویسے ہی رش بھری جگہ ہے لہذا ہمیں اس کو مزید تصادم کا شکار ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 15 =