19 اگست، 2019 8:10 AM
Journalist ID: 1917
News Code: 83442234
0 Persons
ایران میں مغربی ممالک کی مداخلت کا تاریخی پس منظر

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران ایک حساس جغرافیائی پوزیشن کے حامل اور قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے جس کی خاطر مغربی ممالک نے تاریخ کے مختلف ادوار میں اس جیوپولٹکس علاقے پر اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے ایران میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت کی ہے۔

28 مرداد 1332 شمسی ( 19 اگست 1953ء) میں ایرانی حکومت کیخلاف بغاوت بھی ملک میں مغربی ممالک کی مداخلت کی ایک واضح ہے مثال ہے۔

اگرچہ یہ بغاوت پہلے ہی کامیاب نظر آئی لیکن 1357 شمسی سال میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس طرح کی کوششیں ناکام ثابت ہوگئیں اور ایرانی عوام نے قومی خودمختاری حاصل کرکے اسلامی جمہوریہ ایران مکمل آزادی کی راہ پر گامزن ہوا۔

رپورٹ کے مطابق 1324 شمسی سال میں ایران کی چودھویں قومی اسمبلی میں ایک ایسا قانون منظور کیا گیا جس کے تحت حکومت کو پارلیمنٹ کے ساتھ بغیر مشاورت کے خام تیل کے حوالے سے غیر ملکیوں کیساتھ مذاکرات کرنے کی اجازت نہیں دیا گیا۔

یہ قانون ایرانی تیل کا نیشنلائزیشن اور ایران کے تیل کے ذخائر پر غیر ملکی ممالک بالخصوص برطانیہ کے تسلط کو ختم کرنے کا پہلا قدم تھا۔

برطانیہ نے اس اقدام سے ناراض ہوکر عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کیخلاف مقدمہ چلایا لیکن اس وقت کے ایرانی وزیر اعظم ڈاکٹر مصدق نے ان دونوں تنظیموں میں ایران مخالف برطانوی مقدمے کیخلاف اچھے انداز میں دفاع پیش کیا اور اسی طرح برطانیہ کا اس اقدام کو شکست کا سامنا ہوا۔

دراین اثنا لندن اور واشنگٹن نے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ایرانی حکومت کیخلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایک ایسے وقت جب اسلامی جمہوریہ ایران، ملک کے قدرتی وسائل پر اپنے تسلط کو مکمل کرنے کیلئے تیل کا نیشنلائزیشن کی کوشش کر رہا تھا 19 اگست 1953ء میں برطانیہ کے خفیہ انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی (ایس آئی ایس) اور امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کے زیر حمایت "آژاکس" کاروائی کے تحت ایرانی حکومت کیخلاف بغاوت کیا گیا.

 امریکہ اور برطانیہ نے ایرانی حکومت کیخلاف اس بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے اور اس پر عملی جامہ پہنانے کیساتھ اسلامی جمہوریہ ایران میں یک نو آبادیاتی نظام حاکم کرنے کی کوشش کی تا کہ اس طرح ایرانی تیل کے ذخائز سمیت ایران کے جیوسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل پوزیشن پر بھی قابو پالیں۔

لیکن 11 فوریہ 1979 ( 22 بہمن 1357ء) میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے برطانیہ اور امریکہ کے سارے خوابوں کو برباد کرتے ہوئے ایران میں ان کی بالواسطہ یا بلا واسطہ مداخلت کو خاتمہ دے دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران ایک بار پھر آزادی کی راہ پر گامزن ہوا اور ایرانی عوام کو بھی قومی خودمختاری حاصل ہوئی۔

آژاکس کاروائی ایران کیخلاف امریکی اور برطانوی سیاسی اقدامات کے سیاہ کارنامہ کا ایک شیٹ ہے جو کبھی ایرانی عوام کی یادوں اور تاریخ کی یادداشت سے نہیں مٹ جائے گا۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 1 =