تیل بردار جہاز گریس-1 کا نام تبدیل کرنا پابندیوں کو بائی پاس کرنا نہیں: ایرانی سفیر

تہران، ارنا - برطانیہ میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ گریس-1 تیل بردار جہاز کے نام کو آدریان دریا میں تبدیل کرنے کا مقصد ہرگز پابندیوں کو بائی پاس کرنا نہیں ہ

یہ بات حمید بعیدی نژاد نے آج بروز اتوار ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی تیل بردار جہاز کو کسی بھی پابندی کا سامنا نہیں ہے.
بعیدی نژاد نے کہا کہ ایرانی تیل بردار ٹینکر کے نام کی تبدیلی سے بعض لوگوں کیلیے یہ غلط تاثر پیدا ہوا ہے کہ اس ٹینکر کے نام تبدیل کرنے کی وجہ پابندیوں کو نظر انداز کرنا ہے جبکہ اس کے نام میں تبدیلی کا سبب پاناما کی مخالفت اپنے جھنڈے کے ساتھ اس ٹینکر کے راستے کو جاری رکھنا ہے.
انہوں نے مزید بتایا ہمیں اس ٹینکر پر ایران کا پرچم لگانے کے لیے اس ٹینکر کو ایران میں رجسٹرڈ کرنا چاہیے اسی لیے ایران میں اس ٹیکر کی رجسٹریشن کے لیے ایک نیا نام منتخب کیا گیا.
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ مذکورہ وجوہات کی وجہ سے پاناما میں رجسٹرڈ گریس ون ایرانی آئل ٹینکر کے نام کو تبدیل کرکے "آدریان دریا" رکھ دیا گیا ہے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جولائی میں جبرالٹر اور برطانوی سیکورٹی فورسز نے 21 لاکھ ٹن تیل لے جانے والے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لیا تھا جس سے تہران اور لندن کے درمیان بحران پیدا ہوا.
یورو نیوز ایجنسی کے مطابق، جبرالٹر کی سپریم کورٹ نے برطانیہ کی جانب سے غیرقانونی طور پر حراست میں لئے جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز کے افسر اور عملوں کی رہائی کا حکم دے دیا ہے.
19جولائی کو اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر برطانوی تیل بردار جہاز کو حراست میں لیا.
9410٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 0 =