ایران نے چابہار پورٹ کو روس کے سپرد کرنے کا دعوی مسترد کردیا

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے ملک کی جنوبی بندرگاہ چابہار کو روس کے حوالے کرنے کے دعووں کو مسترد کردیا ہے.

یہ بات پاکستان سے ملحقہ سرحدی صوبے سیستان و بلوچستان پورٹس اینڈ شپنگ کے ڈائریکٹر مینجر "بہروز آقائی" نے ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ افواہیں اسلامی انقلاب کے مخالف ذرائع ابلاغ کیجانب سے پھیلائی جاتی ہیں جبکہ گزشتہ میں بھی اسی طرح کا دعوی کیا گیا تھا کہ ایران نے چابہار بندرگاہ کو بھارت کے سپرد کردیا ہے۔

 آقائی نے مزید کہا کہ چابہار بندرگارہ بحر ہند کے آزاد پانیوں سے منسلک ہونے کے بطور سب سے پہلی ایرانی پورٹ ہے جو غیر ملکی آپریٹرز کو اپنی طرف راغب کرتی ہے اور بھارت بھی سواحل مکران کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے سب سے پہلا غیر ملکی آپریٹرز ہے۔

انہوں نے واضح کردیا کہ روس کے خصوصی اقتصادی علاقے استراخان کے ڈائریکٹر مینجر"میلوشگین سرگئی" نے گزشتہ ہفتہ کے دوران صرف چابہار پورٹ کی تجارتی، اقتصادی اور ٹرانزٹی صلاحیتوں سے واقف ہونے اور چابہار پورٹ کی سہولیات اور انفراسٹرکچر کو قریب سے معائنہ کرنے کیلئے اسی بندرگاہ کا دورہ کیا تھا۔

آقائی نے مزید کہا کہ میلو شگین سرگئی نے اپنے حالیہ دورہ چابہار کے موقع پر کیسپین سمندر کے ساحلی بنادر کو بحر ہند سے منسلک کرنے میں چابہار پورٹ کے کردار کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ روسی صدر "ولادیمیر پیوٹین" مصنوعات کی منتقلی کیلئے چابہار بندرگاہ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے پر دلچسبی رکھتے ہیں۔

سیستان و بلوچستان پورٹس اینڈ شپنگ کے ڈائریکٹر مینجر کے مطابق میلو شگین کے دورہ چابہار کے موقع پر اسی پورٹ کو روس کے سپرد کردینے یا کرائے دینے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 9 =