برطانیہ سمجھ گیا کہ اسے ماضی کے ایران کا سامنا نہیں: لاریجانی

تہران، ارنا - ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سمندری حقوق کے دفاع میں قوم اور نظام کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو ادراک ہوچکا کہ ایران کی پوزیشن ماضی سے زیادہ مضبوط ہے.

علی لاریجانی نے مزید کہا ہے کہ آج کا ایران ماضی سے مختلف ہے اور یہ بات برطانوی حکمرانوں کو پتہ لگ چکی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ سمجھ گیا کہ سازش کے ساتھ اقتدار حاصل نہیں کرسکتا ہے اور ایرانی قوم بھی اپنی سمندری دولت کو چھوڑ نہیں دے گا.
انہوں نے گزشتہ سے اب تک ایران مخالف برطانوی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی مداخلت کے ساتھ 18 اگست 1953 ایران میں وزیراعظم ڈاکٹر مصدق کی سربراہی میں اس وقت کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کردیا اور پہلوی حکومت نے ہمارے ملک پر قبضہ جما لیا.
لاریجانی نے کہا کہ آج برطانیہ کو ایران کی طاقت اور انسانیت کے سامنے ، ایک ڈرپوک حرکت میں اپنے اقدام سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جولائی میں جبرالٹر اور برطانوی سیکورٹی فورسز نے 21 لاکھ ٹن تیل لے جانے والے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لیا تھا جس سے تہران اور لندن کے درمیان بحران پیدا ہوا.
یورو نیوز ایجنسی کے مطابق، جبرالٹر کی سپریم کورٹ نے برطانیہ کی جانب سے غیرقانونی طور پر حراست میں لئے جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز کے افسر اور عملوں کی رہائی کا حکم دے دیا ہے.
جبرالٹر حکام نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق ایرانی کشتی کے کمانڈر اور تین افسر رہا ہوں گے.
19 جولائی کو اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر برطانوی تیل بردار جہاز کو حراست میں لیا.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 6 =