ایران کا برطانیہ کیساتھ زیر حراست تیل بردار جہاز سے متعلق دستاویزات کا تبادلہ

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ غیرقانونی طور پر حراست میں لئے جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز کی رہائی سے متعلق اہم دستاویزات کا تبادلہ ہوا ہے.

یہ بات ایرانی شپنگ اور میری ٹائم آرگنائزیشن کے ڈپٹی برائے سمندری امور "جلیل اسلامی" نے منگل کے روز عالمی یوم سمندری کے موقع پر منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
ایرانی عہدیدار کے مطابق، برطانیہ نے ایرانی جہاز کو چھوڑنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے جس کے لئے دونوں ممالک کے درمیان دستاویزات کا تبادلہ ہوا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ان دستاویزات کے تبادلے سے ایرانی جہاز کو چھوڑوانے میں اہم مدد ملے گی.
اسلامی نے آبنائے جبرالٹر میں حراست میں لینے ایرانی تیل بردار جہاز کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اس کشتی کو چھوڑ نہیں دیا گیا ہے.
انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے کوئی حقیقی وجہ کے بغیر اور تعصب کی مبنی پر ایرانی تیل بردار جہاز کو زیر حراست میں لے لیا اور ایرانی بندرگاہوں کی تنظیم اس کی رہائی کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے.
انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے ایرانی جہاز کو چھوڑنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے جس کے لئے دونوں ممالک کے درمیان دستاویزات کا تبادلہ ہوا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ قریب مستقبل میں اس مشکل کا حل کیا جائے گا اور یہ کشتی اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم کے ساتھ اپنی آمد و رفت کو جاری رکھے گا.
ایرانی عہدیدار نے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی نیوی ٹریفک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض چیلنجز کے باوجود تجارتی اور تیل کے شعبوں میں ایرانی سمندری ٹریفک جاری رہا ہے.
انہوں نے کہا کہ بندرعباس میں برطانوی آئل ٹینکر کے حراست میں لینے کے بعد امریکہ اور برطانیہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں.
انہوں ںے کہا کہ امریکہ کے نام نہاد اتحادی کے قیام کا مقصد آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں سمندری ٹریفک کو روکنا تھا مگر ناجائز صہیونی ریاست کے بغیر کوئی ملک کو اس میں شامل نہیں کیا گیا.
اسلامی نے کہا کہ ایران کے مطابق، خلیج فارس میں امریکی نام نہاد فوجی اتحاد شکست کا شکار ہو گیا.
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 5 =