ایرانی صدر کا مسئلہ کشمیر کو سفارتی ذریعے سے حل کرنے پر زور

تہران، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی نہیں بلکہ سفارتی ذریعے سے حل کرنا ہوگا اور ایران مسلم قوموں کے حقوق دلوانے میں کسی بھی تعاون سے دریغ نہیں کرے گا.

یہ بات ڈاکٹر «حسن روحانی» نے اتوار کے روز وزیر اعظم پاکستان «عمران خان» کی جانب سے کئے گئے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لئے کوئی فوجی طریقہ نہیں بلکہ اسے سفارتی طریقے سے حل کرنا ہوگا.
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں قیام امن و سلامتی کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا.
انہوں نے عیدالاضحی کی آمد پر بھی پاکستانی قوم اور حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک ایران تعلقات ہمیشہ برادرانہ اور گہرے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے ہی رہیں گے.

روحانی نے مزید بتایا کہ ایران پڑوسی ممالک خاص طور پر پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں بشمول سرحدی مارکیٹوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

ایرانی صدر نے آج ایران کو امریکہ کی یکطرفہ اور ظالمانہ پابندیوں کی وجہ سے ایک خاص صورتحال کا سامنا ہے، لیکن اس  کے باوجود ہمارا ملک خلیج فارس ، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں شپنگ کے پائیدار امن کے قیام اور پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی تجارتی تعلقات بڑھانے کی کوشش کررہا ہے.

روحانی نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ خطے میں کشیدگی اور بدامنی کے خلاف مقابلہ کیا ہے اور ہمیں اس بات پر یقین ہیں کا کشمیر کے مسلمان لوگ کو اپنے قانونی حقوق اور مفادات سے فائدہ اٹھانا چاہیے.

اس موقع میں پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ عیدالاضحی کی آمد پر ایرانی قوم اور حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تہران اور اسلام آباد کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید گہرے بنانے پر زور دیا.

انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے، آج ہم کشمیر میں معصوم لوگوں کے خلاف پریشان کن اور غیرقانونی واقعات دیکھ رہے ہیں۔

عمران خان نے کشمیر میں بے گناہ لوگوں کے قتل اور خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران خطے اور جہان اسلام میں ایک اہم ملک کی حیثیت سے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے اہم اور موثر کردار ادا کر سکتا ہے.

9410٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 6 =