پاک- ایران اسپیکروں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، کشمیر پر تبادلہ خیال

تہران، ارنا- پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اپنے ایرانی ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹ کے مطابق "اسد قیصر" نے ہفتہ کی شام کو اپنے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر "علی لاریجانی" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں کشمیر کی ابتر صورتحال اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے بات چیت کی۔

اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو آئندہ اسپیکر کانفرنس کے ایجنڈے میں رکھا جائے، ایران اور کشمیر کے صدیوں پر محیط لسانی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں، ایرانی قیادت نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی، توقع ہے ایران مسئلہ کشمیر سے متعلق عالمی سطح پر بھرپور کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی رویے کی تنقید کرتی ہوئے عالمی برداری سے مسئلہ کشمیر پر توجہ دینے سمیت اس کے پُر امن حل کیلئے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی اسپیکر نے اس امید کا اظہار کردیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی علاقائی اور بین الاقوامی صلاحیتوں کو بر صغیر میں حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کیلئے بروئے کار لائے گا۔

اس موقع پر مجلس اسلامی ایران کے سربراہ ڈاکٹرعلی لاریجانی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کا عزیز برادر ملک ہے، مشکل گھڑی میں ایران، کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور ایران کشمیر کے معاملے پر کڑی نگاہ رکھا ہوا ہے۔

اس ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے عالمی فورمز پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان "سید عباس موسوی" نے بھی بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ ایران، کشمیر سے متعلق حالیہ بھارتی فیصلے کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے.

ان کے مطابق، حالیہ صورتحال سے متعلق پاکستانی اور بھارتی حکام نے اپنا نقطہ نظر دیا جس پر ایران غور کررہا ہے.

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت، خطے میں ایران کے دوست اور پارٹنرز ہیں لہذا ہم دونوں ملکوں سے اپیل کرتے ہیں کہ علاقائی قوموں کی خوشحالی کے لئے پُرامن طریقے سے بات چیت کو آگے بڑھائیں.

 اس کے علاوہ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے بھی ہفتہ کے روز، پاکستانی آرمی چیف کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے دونوں فریقین کو صبر و مظاہرہ کرنے کی دعوت دی۔

میجر جنرل "محمد باقری" نے اپنے پاکستانی ہم منصب جنرل "قمر جاوید باجوہ" سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں عید الاضحی کی آمد پر بھی مبارکباد پیش کی.

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ایران سمیت مسلم ریاستوں کے کئے باعث تشویش ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ فریقین کی جانب سے فوجی طریقہ اپنانے سے صورتحال مزید ابتر ہوگی.

انہوں نے اس ٹیلی فونک رابطے میں پاکستانی آرمی چیف کیساتھ دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ سرحدوں کی سلامتی اور باہمی فوجی تعلقات سمیت علاقائی مسائل بالخصوص کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

 میجنر جنرل باقری نے کشمیر صورتحال کی مینجمنٹ کیلئے دونوں فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کشمیریوں کی حق خود ارادیت اور ان کی خواست پر توجہ دیتے ہوئے بغیر کسی عجلت کے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے فیصلہ کریں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ سیاسی کوششوں کے ذریعے خطے کے مسلمان عوام کے حقوق کی فراہمی ہوجائے اور امت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرنے سے گزیر کیا جائے گا۔

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے افغانستان کی سیاسی اور سیکورٹی صورتحال سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کی موجودہ خراب صورتحال کی وجہ کو اس ملک کے اندرونی معاملات میں مغربی اور غیر خطی ممالک کی مداخلت قرار دے دیا۔

ایرانی سپہ سالار نے مزید کہا کہ دہشتگرد گروپ افغانستان کی موجودہ صورتحال سے غط فائدہ اٹھاتے ہیں لہذا ہمسایہ ممالک کو افغان حکام کے ساتھ رابطے میں ہونے کے ذریعے اس ملک میں قیام امن و استحکام کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس موقع پر پاکستانی آرمی چیف نے مشترکہ سرحدوں میں قیام امن کی فراہمی کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشترکہ سرحدوں کو امن و دوستی کی سرحدیں بنانے کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔
**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 12 =