9 اگست، 2019 4:16 PM
Journalist ID: 2392
News Code: 83431168
0 Persons
خلیج فارس میں صہیونی خطرات سے نمٹنا ہمارا حق ہے: ایران

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے خلیج فارس میں ناجائز صہیونی ریاست کی ممکنہ موجودگی کو واضح خطرہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ غاصب صہیونیوں سے لاحق خطرات کا مقابلہ ایران کا حق ہے.

یہ بات ترجمان دفتر خارجہ سید عباس موسوی نے امریکہ کے خودساختہ سمندری اتحاد میں صہیونیوں کی ممکنہ شمولیت سے متعلق میڈیا رپورٹس پر اپنے ردعمل میں کہی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران یقین رکھتا ہے کہ اس اتحاد تنازعات کو بڑھائے گا جس میں ناجائز صہیونی ریاست جو مشرق وسطی اور خلیج فارس میں ان کی موجودگی بدامنی اور عدم استحکام کی اصلی وجہ ہے، کی شمولیت علاقائی سالمیت، قانونی حکمرانی اور سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔
موسوی نے کہا کہ ملکی ڈیٹرنس اور دفاعی پالیسیوں کے تحت غاصب صہیونیوں سے لاحق خطرات کا مقابلہ ایران کا حق ہے اور امریکہ اور صہیونی ریاست اس خطرناک اقدام کی ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے خلیج فارس میں سمندری سیکورٹی کی فراہمی کے بہانے سے امریکی قیادت میں فوجی اتحاد اور نام نہاد اجلاس کے انعقاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خلیج فارس کے اہم ملک کے طور پر اپنے 1500 میل سواحل کے ساتھ اس خطے شپنگ کی سلامتی کی فراہمی کی تاریخی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بے شک خلیج فارس میں غیرعلاقائی فوجیوں کی موجودگی کوئی بہانے کے ساتھ نہ صرف خطی سلامتی کی فراہمی میں مدد نہیں کرے گی بلکہ اس نازک علاقے میں بڑھتے ہوئے تنازعات کا باعث ہوگی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہمارا ملک ایسے اتحادی کے قیام کے ساتھ مخالف ہے اور اس کے اراکین اور منعقد کرنے والوں کو خطے میں تنازعات اور چیلنجز کی اصلی وجہ قرار دے رہا ہے۔
موسوی نے کہا کہ امریکہ کے خودساختہ سمندری اتحاد میں صہیونیوں کی ممکنہ شمولیت ایرانی قومی سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور ملک کی دفاعی پالیسیوں کے تحت ان سے نمٹنا ہمارا حق ہے، امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست اس تمام خطرناک اقدامات کی ذمہ دار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، امریکہ اپنی ایران فوبیا پالیسیوں کے تحت خلیج فارس میں فوجی اتحاد قائم کرنے کے لئے کوشش کر رہا ہے اور اب تک بڑی تعداد میں ممالک سمیت جاپان، جرمنی، فرانس اور اسپین نے اس کی شمولیت کی مخالفت کی ہیں۔
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 13 =