9 اگست 2019 - 12:17
Journalist ID: 1228
News Code 83430965
0 Persons
ظریف دنیا میں ایران کے دفاع کی سفارتی آواز ہیں

اسلام آباد، ارنا - پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے کہا ہے کہ محمد جواد ظریف صرف وزیر خارجہ نہیں بلکہ وہ عالمی سطح پر وطن عزیز کے حقوق کا دفاع کرنے کی مضبوط سفارتی آواز ہیں جن کے خلاف امریکی پابندیاں سراسر غلط اقدام ہیں.

ایرانی سفارتخانے کے میڈیا سیکشن کے ایک بیان کے مطابق، امریکی حکومت نے ایرانی قوم کے خلاف اپنی خودپسندی اور اقتصادی دہشتگردی کی حکمت عملی کو جاری رکہتے ہوئے سفارتی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر کے 30 جولائی 2019 کو اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب ڈاکٹر جواد ظریف کا نام امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے پابندیوں والی فہرست میں درج کر لیا ہے.
ٹرامپ انتظامیہ نے گذشتہ ایک سال سے ابتک خودپسندانہ روش کے ذریعے نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران بلکہ سفارت کاری اور کثیر جہتی نظریہ کے خلاف غیر قانونی رویہ اختیار کر رکہا ہے . ایک دہایی پر مبنی طویل مذاکرات سے انجام پانے والے ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف پابندی، جو کہ ایران کی باقاعدہ اور دفاعی فوج ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف پابندی اور اب 12 جولائی 2019 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بعض رکاوٹوں کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے خلاف غیر قانونی رویہ کی چند مثالیں ہیں .
وزیر امور خارجہ کے خلاف پابندی، امریکہ کی طرف سے بین الاقوامی حقوق کے مسلمہ اصول و ضوابط، اقوام متحدہ کے منشور کی بدولت ذمہ داریوں، سفارتی تعلقات کے حوالےسے ویانا کنونشن منعقدہ 1961 اور اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کی 1947 کی ریزولیشن سے متعلق تمام تر معاہدوں اور ذمہ داریوں کی کہلم کہلا خلاف ورزی ہے.
اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر کی قرارداد نمبر 11 کے پیراگراف نمبر 4 کے مطابق،"امریکہ کی تمام فیڈرل، ریاستی اور مقامی ادارے دوسرےممالک کے سفارتی مشنز کی ذمہ داریوں اور رفت و آمد کے راستے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کہڑی نہیں کریں گے."
اسی طرح ویانا کنونشن کےمطابق تمام سفارت کاروں کو قبول کرنے والے ملک کے ہر قسم کے اقدامات کے خلاف مکمل اور غیر قابل تنسیخ ایمونٹی حاصل ہو گی.
امریکی یہ دعوی کرتے ہیں کہ ایرانی وزیر خارجہ کے خلاف پابندی، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دبا‌‎ؤ کے لئے عمل میں لائی گئی حکمت عملی ہے جس کا مقصد ایرانی حکومت کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن جبکہ اس وزیر خارجہ کی بیرون ملک کسی قسم کے اثاثے اور بنک اکا‎ؤنٹ موجود نہیں، لہذا یہ پابندی انکے خلاف کسی عملی صورت سے زیادہ ایک علامت ہے جو امریکیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارتی فلسفے اور منطق کے مقابلے میں ثابت ہوتی ہے. جواد ظریف وزیر خارجہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارتی مشینری کی حقانیت اور سچائی کی آواز ہے. پابندی کے امریکی فیصلہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ظریف خارجہ پالیسی کے ذمہ دار کے طور پر عام رائے عامہ اور خصوصی طور پر امریکی عوام کی انکے راہنماؤں کی جہالت و کم علمی کی نسبت کس قدر موثر ہے. جی ہاں جب میدان جنگ میں ایک فریق اپنے مد مقابل پر کامیابی حاصل نہ کر سکے تو غیر اخلاقی حربوں سے کوشش کرتا ہے اسے میدان سے باہر رکہے.
ڈاکٹر ظریف حالیہ امریکی پابندی سے متعلق کہتے ہیں " کسی ملک کےوزیر خارجہ خلاف پابندی کا مفہوم، مذاکرات میں شکست، سفارتکاری میں ناکامی اور مکالمے کی مخالفت ہے". انہوں نے مختلف ممالک خصوصا یورپی ممالک کی طرف سے اس پابندی کی مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا "امریکی حکومت کی نئی سازش میں حتی اپنے گاہکوں کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکامی سے امریکی اعتبار پوری طرح ختم ہو چکا ہے.
امریکی وزارت خزانہ کی پابندی فہرست میں ایرانی وزیر خارجہ کے نام کا اندراج ایک خود مختار اور اقوام متحدہ کے رکن ملک کے وزیر امور خارجہ کے طور پر اور ذاتی حیثیت میں اپنی ذمہ داریوں سے روکنے کے لئے غیر قانونی عمل اور اپنی مثال آپ ہے، جو کہ اس ملک کے دوسرے ممالک اور تنظیموں کے ساتھ تعلقات کے راستے میں رکاوت پیدا کرتا ہے.
امریکی حکومت نے اپنے اس فعل کےذریعہ ایران کے پوری دنیا کے ساتھ خارجہ تعلقات کو مجموعی طور پر نشانہ بناتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ ظاہری دعوں کے برخلاف اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہی نہیں ہے اور یہ باتیں فقط بین الاقوامی برادری کو فریب دینے کےلئے ہیں۔ جواد ظریف پر پابندی انکی ذات پر پابندی نہیں بلکہ یہ قدم اور پابندی عالمی سطح پر سفارتکاری کے خلاف شمار ہوتا ہے. یہ پابندی قانونی، عرفی اور اخلاقی کسی بہی طور پر قابل قبول نہیں ہے اور یہ بین الاقوامی اختلافات کے حل کے لئے سفارتکاری، مکالمہ اور تمام پرامن راستوں کی بندش اور علاقایی اور بین الاقوامی سطح پر تشدد کے رجحان میں اضافے پر ختم ہوگا. سفارتکاری کو کم

زور کرنے والے اس غیر قانونی فعل کی مذمت اگر بروقت نہ کی گئی تو اس کے کسی خطرناک رویہ میں تبدیلی کےامکانات بڑھ سکتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک ملک کی حکومت کسی دوسرے ملک کے حکام اور اداروں پر منظم انداز میں پابندیاں عاید کر رہی ہے لیکن ٹرامپ انتظامیہ کے دور میں پابندی دوسرے ممالک کو دباؤ میں لانے کے لئے ایک خطرناک اور روزمرہ ہتہیار میں تبدیل ہو گیا ہے.
اس حکومت کا پابندیوں کا بے مہابا استعمال، جنون کی حد کو پہنچ چکا ہے وہ اس طرح کہ اس وقت امریکی حکومت کے 13 ادارے اور ان کے وسایل فقط دنیا کے 37 ممالک کے مختلف افراد اور اداروں کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کے اطلاق سے متعلق امور کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں. یہ "پابندی جنون" یقینی طور پر بین الاقوامی سطح پر امن، دوستی اور سلامتی کی فضا کے لئے بہت خطرناک ہے.
در حقیقت امریکی پابندی جنون کے اس مرحلہ کے تجزیہ کے وقت کہنا چاہئے کہ ایرانی تیل کی برامدات روکنے کی کوشش کے بعد، ایرانی حکام پر پابندی، امریکی ترکش کا آخری تیر ہے جو اپنے تئیں اندہا دہند ایران کے سیاسی نظام کے ماتھے پر پہینکا گیا ہے لیکن سفارتکاری کے قلب پر جا لگا ہے. امریکہ ایک استکباری طاقت ہے جو کہ اپنے مخالفین کو گہٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے اپنے دانت پیس رہی ہے. صدر روحانی کے بقول وزیر خارجہ پر پابندی ایک بچگانہ قدم اور مضحکہ خیز ٹریجیڈی ہے جو کہ امریکہ نے ذلت آمیز طریقہ پر اٹھایا ہے تا کہ اپنے خوف کو اس طرح کےنعروں کے پیچہے چہپا سکے. بغیر یہ جانے کہ امریکی خارجہ پالیسی کے مغربی ایشیا میں پے در پے ناکامی کے بعد خصوصا عراق اور افغانستان میں ناکامی کے بعد دنیا کی آنکہیں حقایق پر لگ چکی ہیں .
ایک مقتدر ملک کی سفارتی مشینری کے سربراہ کے خلاف حالیہ امریکی پابندیاں سفارتکاری کی روح کے واضح منافی ہے . اور امریکی حکام کے ایران کے ساتھ بلا مشروط مذاکرات کی دعوت جیسے دعووں اور حقایق کے درمیان امریکی خارجہ پالیسی کے تضاد کو پہلے زیادہ سے واضح طور پر آشکار کرتے ہیں. اسی طرح، ملت ایران پر پابندی اس کی خوراک دواؤں اور اپنے تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والے مفادات پر دسترسی کی ممانعت، انسانی حقوق اور سفارتکاری کی حمایت پر مبنی امریکی جہوٹے دعووں سے متضاد تہے، ایرانی اثاثوں کو منجمد کرنے ، ایرانی تیل کی فروخت روکنے اور دوسرے ایرانی مفادات کی راہ میں روڑے اٹکانے کا عمل امریکہ کی طرف آزاد بین الاقوامی تجارت کے دعووں کے منافی ہے اور اجتماعی ہلاکتوں کے ہتہیاروں کی علاقائی ممالک کو کہلم کہلا فروخت نے امن پسندی کے نعرے کو کہوکہلے نعرے میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے.
ریاست ہای متحدہ امریکہ نے کئی بار یہ ثابت کیا ہے کہ اپنے من گہڑت مفادات کے لئے کوئی بہی قدم اٹھا سکتا ہے اور کسی بہی تعلقات کےاصول اور بین الاقوامی قانون کو پایمال کرنے سے روگردانی نہیں کریگا. اب وہ وقت آ چکا ہے کہ خطے سے باہر کی بڑی طاقتوں سے امید رکہنے کے بجائے اپنے خطہ کے مسایل کو حل کرنے کیلئے باہمی طور پر اکٹھا ہوا جائے اور بین الاقوامی حقوق، امن، سلامتی اور خطہ کی ترقی جیسے مفادات کی اپنے اتحاد کے ذریعہ نگرانی کریں. جناب ڈاکٹر ظریف اس بارے میں کہتے ہیں کہ علاقائی اقوام، امریکہ کے انخلا کے بعد لمبے عرصہ تک ایک دوسرے کے ساتھ بحیثیت پڑوسی رہیں گی لہذا وہ وقت آن پہنچا ہے کہ خطے کے رہنما اپنی توجہ علاقائی طریقے پر مرکوز رکھیں. اس مقصد کے لئے باہمی مکالمہ اور عدم جارحیت ایک اچھی شروعات ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 2 =