ظریف پر پابندیاں لگانا، عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے: ایران

نیویارک، ارنا – اقوام متحدہ میں تعینات ایرانی مستقل مندوب نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ محمدجواد ظریف پر امریکی پابندیاں عالمی حقوق اور اس تنظیم کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے.

یہ بات "مجید تخت روانچی" نے منگل کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط میں لکھے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے ایرانی خارجہ پالیسی کی ذمہ دار محمد جواد ظریف کی اعلی پوزیشن کی وجہ سے اس پر پابندیاں عائد کی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکومت سفارتکاری جو عالمی اقوام کے درمیان امن کو جاری رکھںے کی اہم کامیابی ہے، سے نفرت کرتی ہے.
تخت روانچی نے کہا کہ امریکہ کے اس غیرقانونی رویہ ایرانی عوام کے خلاف معاشی دہشتگردی اور دباؤ ڈالنے کا ایک حصہ ہے.
انہوں نے امریکہ کے غیرقانونی اقدام کو سفارتکاری حقوق سمیت غیر ملکی حکام کے استثنیٰ بالخصوص وزارئے خارجہ کے استثنی کی خلاف ورزی قرار دے دیا.
انہوں نے اقوام متحدہ کی نشستوں میں شرکت کے لئے ظریف کے حالیہ دورے نیویارک میں امریکی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر 105 کی کھلی خلاف ورزی ہے.
ایرانی مندوب نے کہا کہ امریکہ کے اس اقدام اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی مختلف قراردادوں سمیت اقوام متحدہ میں روانے ہونے والے وفود کی معافی کی خلاف ورزی ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ اس قراردادوں کے مطابق، امریکہ کو جلد اقوام متحدہ میں روانے ہونے والے وفود کی پابندیوں کو خاتمہ کرنا ہوگا.
انہوں ںے کہا کہ امریکہ کے اس اقدام نہ صرف عالمی حقوق کی خلاف ورزی بلکہ اجتماعیت کے لئے بڑا خطرہ ہے وہ قوموں کے درمیان باہمی اتحاد کے بجائے افراتفری پھیلنا چاہتے ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو امریکہ کے اس اقدام کو مذمت کرنا چاہئیے اور اقوام متحدہ اور اس کے اراکین کو بھی عالمی حقوق کے دفاع کے لئے امریکہ کے غیرقانونی اقدام کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا.
تخت روانچی نے عالمی حقوق، اجتماعیت اور باہمی اتحاد کو جاری رکھنے اور اس خطرناک رویے سے مقابلہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے تعمیری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 2 =