ایک صحافی کے آخرین لمحات

تہران، ارنا - آٹھ اگست 1998 کو افغانستان کے شہر مزار شریف پر کا طالبان کے دہشتگردوں کا قبضہ ایک غیرمتوقع خبر تھی جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گئی.

اس خبر کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ طالبان نے شمالی افغان شہر میں واقع ایرانی قونصلٹ پر بھی قبضہ کرلیا ہے جس میں 8 ایرانی سفارتکاروں کے علاوہ ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے "محمود صارمی" بھی شہید ہوگئے.
انہوں نے اپنی شہادت سے کچھ گھنٹے پہلے مجھے فون کیا تھا.یہ بات شہید کی بیوہ خدیجہ روز بہانی نے ارنا کو ایک خصوصی انٹریو میں بتائی.
میرے شوہر اس کال کے دوران فون ہوا میں رکھ کر کہا کہ طالبان ٹینکوں کی آوازوں کو سنو.
انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ایرانی قونصلیٹ پر قبضے سے پہلے صارمی نے ایک خبر دی کہ طالبان مزار شریف میں داخل ہو گئے ہیں اور ان کی جانب سے ایرانی قونصلیٹ پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے.
اسلامی جمہوریہ ایران کی نیوز ایجنسی ارنا کے خصوصی نمائندہ محمود صارمی نے جو خبر دی وہ کچھ اس طرح سے تھی کہ میں مزار شریف میں موجود ایرانی قونصلیٹ سے رپورٹ کر رہا ہوں اور کچھ طالبان اس عمارت میں داخل ہو رہے ہیں مجھے بتائیں میں کیا کروں.
لیکن افغانستان میں ہونے والے اس واقعے کے دوران محمود صارمی کو جب ایرانی سفارتکاروں کے ساتھ طالبان کی جانب سے ان کا محاصرہ ہو گیا تب بھی وہ اپنی صحافتی فرائض کو بخوبی انجام دے رہے تھے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے افغانستان میں اپنی صحافتی سرگرمیوں کو بہت ایماندار سے نبھایا ہے.
ان کی بیوی نے مزید کہا کہ میں نے ان کو کئی بار کہا کہ وہ اپنی نوکری چھوڑ دیں افغانستان میں حالات کشیدگی کی طرف جا رہے ہیں اور آپ کی جان کو بھی خطرہ ہے تب ان کا جواب تھا کہ میں اپنے صحافتی مشن کو ادھورا چھوڑ کر راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا.
اس کے بعد اچانک سے طالبان کی جانب سے ایرانی سفارتکاروں اور میرے شوہر سمیت دیگر افراد کو پہلے تہ خانے میں لے جایا گیا جہاں پر ان تمام افراد پر طالبان نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی.
اس تمام واقعے میں ایک ایرانی شخص اللہ داد شاہ سوان کی جان بچ گئی اس کو ٹانگ پر گولی لگی اور ایک افغان شہری
جعفر حسینی فرد جس کا گھر ایرانی قونصلیٹ کے ہمسایہ میں تھا نے اس کی مدد کی.
اس افغان شہری کے مطابق، طالبان پہلے ان تمام ایرانیوں کی میتوں کو جلانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ تمام لعشیں ایرانی ہلال احمر کے سپرد کر دیں گے.
20 سال گزر گئے ہیں اس واقعے کو جس میں ایرانی سفارتکاروں سمیت ایرانی صحافی محمود صارمی کو نہایت بے دردی سے ہلاک کیا گیا ہر سال 8 اگست کو ایران میں صحافیوں کا دن منایا جاتا ہے.
یونیسکو کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے امور مواصلات اور انفارمیشن فرینک لا ریو نے کہا ہے کہ اوسط ہر چار دنوں کے دوران ایک صحافی کو قتل کیا جاتا ہے.
جنیوا کی Press Emblem Campaign کی رپورٹ کے مطابق رواں سال 18 ممالک میں 44 سے زائد صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے جو کہ رپورٹ کیسسز ہیں.
مزار شریف میں تمام لوگ محمود صارمی کے نام اور ان کی افغانستان سے متعلق حقائق اور سچ پر مبنی خبروں اور خصوصی رپورٹس کی بنا پر ان کو جانتے ہیں اور ان کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے اپنی صحافتی فرائض کے دوران اپنی جان دے دی.
ایران میں قومی یوم صحافت 20 سال پہلے افغانستان کے شہر مزارشریف میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی (ارنا) کے نمائندے محمود صارمی کی یاد میں منایا جاتا ہے.

9410٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 8 =