ایران کے صحرائے "لوت" کا دیومالائی حسن ناقابل یقین ہے

تہران، ارنا- صحرائی علاقوں میں شدید گرمی کے باوجود پھر بھی یہ علاقے فطرت کے سب سے بڑے سحر انگیز اور خوبصورت نظاروں میں ہوتے ہیں؛ ایران کے جنوب مغرب میں واقع صحرائے لوت بھی ان علاقوں میں سے ایک ہے جو گزشتہ سال کے دوران قریب 5 ہزار غیر ملکی سیاحوں نے اس کی سیر کیلئے دور دراز راستے کا سفر اختیار کرکے صحرائے لوت کا رخ کر لیا تھا۔

خوبصورتی منظر یا چہرے میں نہیں، دیکھنے والی آنکھ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ کسی کے دل میں نخلستان کی جگہ ہوتی ہے تو کسی کے قلب و روح پر ریگستان چھا جاتا ہے۔

 ہرے بھرے شمالی علاقہ جات کی طرح قدرت نے صحرا کو بھی ایک منفرد خوبصورتی سے نوازا ہے جو اپنے چاہنے والوں کے دلوں کو اتنا ہی کیف و سرور عطا کرتی ہے جو سرسبز وادیاں اپنے عشاق پر نچھاور کرتی ہیں۔

ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں واقع صحرائے لوت قریب 40 ہزار کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس صحرا کے کچھ حصے صوبے کرمان، سیستان و بلوچستان اور خراسان جنوبی میں واقع ہوئے ہیں۔

صحرا کی سیر کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے لیکن اگر آپ کو صحرائے لوت کی سیر کرنے کا ارادہ ہے تو وہاں جانے کا سب سے اچھا موقع موسم بہار کے پہلے مہینے سمیت موسم خزان اور سردیوں کو ہے۔

آپ صحرائے لوت میں اونٹ کی سواری، ننگے پیروں سے صحرا میں پھیلی ہوئی نرم ریت پر چلنے، رات کو تاروں بھرے آسمان کے حسین نظارے سے حظ اٹھانے، قدیم کاروانسائیائیوں میں رہنے اور ایس یو وی گاڑیوں سے چلنے سمیت شہر کے شور و غل سے ٹھوری دیر تک دور رہنے کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

 صحرائے لوت کی راتیں انتہائی پر کشش ہوتی ہیں اس کی راتیں سرد ہوتی ہیں اور اس کا آسمان بھی چمکتے ہوئے تاروں سے بھرا پڑا ہے اس کی چاندنی راتوں میں ریت کے ذرات چمکتے ہیں اور اندھیری راتوں میں کائنات مائل بہ وصل ہوتی ہیں۔

 ایران کے صحرائی علاقوں کے قریب روائتی طرز تعمیر سے بنے ہوئے رہایش گاہ اور ایکوٹورازم کے ہوٹل واقع ہیں جن کے دروازے اور کھڑکیاں لکڑی سے بنے ہوئے ہیں اور ان کی چھتیں بھی گنبد کی طرح تعمیر کی گئی ہیں اور دیواریں بھی مٹی سے بنے ہوئے ہیں اور ان کے اندر کو دستکاری مصنوعات سے سجائے گئے ہیں اسی لیے سیاح بڑے سکون سے میں قیام پذیر ہوسکتے ہیں۔

صحرائے لوت دنیا کا سب سے بڑا 27 ویں صحرائی علاقوں میں ہوتا ہے۔ صحرائے "مرنجاب" اور صحرائے "شہداد" بھی ایران کے دیگر صحرائی علاقوں میں ہیں جن کی سیر سے بہت لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

"لوت" کے لفظ کا مطلب "ننگا" کا ہے اور کیونکہ اس علاقے میں پانی اور پلانٹون کا کوئی نام و نشان نہیں ہے لہذا اسے لوت کہا جا تا ہے.

 2004، 2005، 2006، 2007 اور 2009 کے سالوں کے دوران سیٹیلایٹ کے ذریعے موصول ہونے والے ڈیٹا کے مطابق گرم ترین جگہ ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں صحرائے لوت تھا جہاں درجہ حرارت سنہ 2005 میں 70.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا تھا۔

2016ء میں ایرانی صحرائے لوت کو بین الاقوامی ثقافتی تنظیم یونیسکو کے ورثے میں رجسٹر کردیا گیا ہے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 6 =