برطانوی جہاز کو حراست میں لینا جوابی کاروائی نہیں تھی: ایران

تہران، ارنا - ایرانی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ برطانوی تیل بردار جہاز کو کسی جوابی کاروائی کے تحت نہیں بلکہ سمندری خلاف ورزیوں پر اسے حراست میں لیا گیا ہے.

محمد جواد ظریف نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ برطانوی جہاز خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے اور یہ کیس ایرانی عدالت میں ہے.
انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے برطانوی آئل ٹینکر کو زیر حراست لینے کا اقدام کوئی جوابی کاروائی نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی تھی جس کا ایرانی عدالتوں میں جائزہ لیا جا رہا ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ برطانیہ کی جانب سے جبل الطارق میں ایرانی ٹینکر گریس1 کو تحویل میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ، امریکہ کی معاشی دہشتگردی میں بھی ملوث ہے جس کے یقینی طور پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے.
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کو خلیج فارس میں سب سے زیادہ ساحل علاقہ حاصل ہے لہذا ہم ہی اس علاقے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہیں اور ہمیشہ آبنائے ہرمز اور اس خطے کی سیکورٹی کا دفاع کرتے رہیں گے.
ظریف نے کہا کہ ایران نے بعض اوقات خلیج فارس میں خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا ہے لیکن موجودہ حالات میں برطانیہ کی قزاقی کو نظر انداز نہیں کرسکتے.

9410٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 1 =