جوہری معاہدہ: ایرانی عملدرآمد روکنے کا تیسرا قدم ہمارا آخری فیصلہ نہیں: ظریف

تہران، ارنا - ایران نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کی بعض شقوں پر عمل درآمد کو روکنے کا تیسرا قدم نہ کوئی آخری فیصلہ ہے اور نہ اس کا مطلب جوہری معاہدے سے نکلنا ہے بلکہ یہ سارا عمل اسی ڈیل کے تحت ہورہا ہے.

محمد جواد ظریف نے پیر کے روز تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ جہاں بھی گیا وہاں اس نے قوموں کو تباہی، ظلم اور بربریت کے سوا کچھ نہیں دیا.

 ایرانی کی جوہری وعدوں کی کمی کا تیسرا فیصلہ، نہ آخری فیصلہ ہے نہ جوہری معاہدے سے باہر نکلنا، بلکہ جوہری معاہدے کے فریم ورک کے مطابق ہے

انہوں نے مزید کہا کہ '' نیویارک کے دورے کے دوران ایک امریکی سینیٹر کیساتھ ملاقات کے موقع پر مجھ سے درخواست کی گئی کہ وائٹ ہاوس میں جا‎‎ؤں ورنہ مجھ کو امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل کریں گے جو میں نے خوش قسمتی سے اس کی درخواست کو قبول نہیں کیا۔"

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ آج دنیا بھر میں تنہائی کا شکار ہے جبکہ اس کے جارحانہ اور غنڈہ گردی پر مبنی بیانیے کو بھی شکست ملی ہے.
ظریف نے کہا کہ ہم ہماری سیکورٹی کو کسی سے نہیں خریدتے ہیں بلکہ ایران اپنی قوم کے ذریعے اپنے ملک اور سیکورٹی کا دفاع کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک تہذیب یافتہ ملک ہے تو ہم ترقی، مزاحمتی معیشت، لوگوں پر بھروسہ کرنے اور باہمی تعلقات کے فروغ کیساتھ امریکی دہمکیوں اور دبا‎ؤ پر قابو کرتے ہیں اور لوگوں کے پیچھے نہیں چھپتے ہیں کیونکہ ہم اپنے لوگوں کا مقروض ہیں۔

9410٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 1 =