افغان امن عمل میں کابل حکومت کو مرکزی کردار حاصل ہونا چاہئے: ایرانی اسپیکر

تہران، ارنا - ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اس با پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی امن عمل کی کوششوں میں کابل حکومت کو مرکزی کردار حاصل ہونا چاہئے.

یہ بات "علی لاریجانی" نے گزشتہ روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے افغان سینیٹ کے اسپیکر "فضل ہادی مسلم یار" اور ان کے ہمراہ وفد کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے افغانستان کی علاقائی سالمیت کی حمایت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں اور ہمارے ملک میں آپ کی موجودگی سیاسی اور اقتصادی تعلقات بڑھانے کا باعث بنے گی.

لاریجانی نے کہا کہ افغانستان پر قبضہ ہوگیا اسلامی جمہوریہ ایران اس کی قوم کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آج افغان طالب علموں اور طلباء آسانی سے ایرانی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سلامتی ہمارے لئے بہت ہی اہم ہے مگر بعض ممالک دہشتگردی اقدامات کے ساتھ اس کی بدامنی چاہتے ہیں اور ان کا مقصد اس ملک کے اقتصادی سرمایہ کاری مواقع کو برباد دینا ہے.

انہوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو نازک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں افغانستان کے ساتھ تعلقات میں ایماندار نہیں ہیں اور مذاکرات کی تجویز کے باوجود دوسرے راستے پر قدم چل رہے ہیں جبکہ انہوں نے حالیہ دنوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کے باوجود ہمارے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پر پابندیاں عائد کی ہیں.

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے.

افغان سینیٹ کے اسپیکر نے ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی افغان پناہ گزینوں کی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران مخالف امریکی پابندیوں کی مذمت کر رہے ہیں.

مسلم یار نے افغانستان میں داعش دہشتگردوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں ہمارے ملک میں حقیقی سلامتی جاری رکھنا نہیں چاہتے ہیں وہ اسلامی جمہوریہ ایران، افغانستان، دین اسلام اور انسانیت کا مشترکہ دشمن ہے.

9393**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 1 =