3 اگست 2019 - 12:36
Journalist ID: 2392
News Code 83422708
0 Persons
ظریف کیخلاف پابندیوں کو صحیح نہیں سمجھتے: جرمنی

تہران، ارنا - جرمنی نے ایرانی وزیرخارجہ کے خلاف امریکی پابندیوں کو غلط قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ برلن، ظریف کے ساتھ تعاون کو جاری رکھے گا.

جرمن ڈوئچے ویلے چینل نے ہفتہ کے روز اعلان کردیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کے باوجود جرمن وزارت خارجہ ظریف کے ساتھ باہمی تعاون کو جاری رکھے گا.
جرمن وزارت خارجہ کے مطابق، امریکہ کا حالیہ اقدام سفارتی حل کی رکاوٹ ہے لہذا برلن ظریف کیخلاف پابندیوں کو صحیح نہیں سمجھتا ہے.
جرمن وزارت خارجہ نے موجودہ صورتحال میں تنازعات کی روک تھام کے لئے مواصلاتی چینلز کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جرمن، فرانسیسی اور برطانوی وزرائے خارجہ ظریف کے ساتھ اپنے مسلسل تعلقات کو جاری رکھیں گے.
رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ " فیڈریکا مغرینی" کے ترجمان "کارلوس مارتین روئیز" نے امریکہ کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کیساتھ اپنے تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر بطور اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک زبردست سفارتکار کے "محمد جواد ظریف" کیساتھ باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
جرمن وزیر خارجہ "ہائیکو ماؤس" نے جمعرات کے روز ARD ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کے دوران سفارتی موقف اور جوہری معاہدے کے خلاف امریکی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم گزشتہ کی طرح ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ جو ایرانی قوم کے خلاف معاشی جنگ مسلط کرنے کے مرکز کے طور پر مشہور ہے، نے محمد جواد ظریف کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے.
امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن نے کہا کہ جواد ظریف کیخلاف پابندیاں لگانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
ان پابندیوں کے مطابق محمد جواد ظریف کے امریکا اور امریکی حکومت کے زیر انتظام ممالک میں تمام اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور اس سے ان کے بیرون ملک سفر کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے حالیہ اقدام کے رد عمل میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی مجھ پر عائد پابندیوں کی وجہ یہ ہے کہ میں دنیا میں ایران کا مرکزی ترجمان ہوں، یہ حقیقت کیا اتنی تکلیف دہ ہے؟
ظریف نے خود پر لگی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا ایران سے باہر کوئی اثاثہ یا مفاد نہیں، اس سے مجھ پر یا میرے اہلخانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، مجھے اپنے ایجنڈا کے لیے اتنا بڑا خطرہ سمجھنے کے لیے آپ کا شکریہ۔
274*9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 1 =