ایرانی قوم کے حق مانگنے والے کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا

تہران، ارنا- وائٹ ہاوس نے ایرانی  وزیرخارجہ کو دھمکی دینے کے ایک مہینے بعد مذاکرات کرنے اور جمہوریت پر عمل پیرا ہونے کے اپنے جھوٹے روپ کو بے نقاب کرکے ظریف کیخلاف پابندیاں لگائیں حالانکہ تاریخ خود گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

 رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے یکم اگست کو ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" کے نام کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا۔

امریکہ کے اس اقدام کے رد عمل میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام سمیت بہت سارے ممالک نے واشنگٹن کے اس غیر قانونی اقدام کی مذمت کی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خود اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ہمیں بخوبی اس بات پر واقف ہیں کہ مذاکرات اور امن خواہی، بی ٹیم کی حیات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری باتوں کو میرے خلاف پابندیاں لگانے کی وجہ قرار دیتے ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکی عوام کو میری باتوں کو سننے اور میرے خیالات کو پڑھنے کیلے امریکی محکمہ خزانہ کے غیر ملکی اثاثہ جات کے کنٹرول کے دفتر (OFEC) کی اجازت کی ضرورت ہے؟

ظریف کیساتھ باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا: یورپی یونین

یورپی یونین نے امریکہ کیجانب سے ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف پابندیاں لگانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم ظریف کیساتھ باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ " فیڈریکا مغرینی" کے ترجمان "کارلوس مارتین روئیز" نے کہا کہ یورپی یونین، ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ  باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے امریکہ کے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران کیساتھ اپنے تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر بطور اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک زبردست سفارتکار کے "محمد جواد ظریف" کیساتھ باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

فرانس نے ظریف کیخلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت کی

فرانسیسی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف پابندیاں لگانے کے امریکی اقدام کا مخالف ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق فرانسیسی محکمہ خارجہ نے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ظریف کیخلاف پابندیاں لگانے کا عمل، سفارتی طریقوں کے منافی ہے: جرمنی

جرمن محکمہ خارجہ نے ظریف کیخلاف امریکی پابندیوں کے رد عمل میں کہا کہ  امریکہ کا یہ اقدام سفارتی طریقوں کے منافی ہے اور جرمنی ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ باہمی تعلقات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

برطانیہ، ظریف کیخلاف امریکی پابندیوں کی پیروی نہیں کرے گا

برطانوی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف امریکی حالیہ پابندیوں کی پیروی نہیں کر ے گا۔

برطانوی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ارنا نمائندے کیساتھ خصوص انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کشیدکی کے دوران سفارتی چینلز کھلے ہونا، انتہائی اہم ہے۔

سربراہ اقوام متحدہ نے سارے فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل "انٹونیو گوترس" نے ایران عوام کیخلاف امریکی معاشی پابندیوں اور ایرانی وزیر خارجہ کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کے رد عمل میں  سارے فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی۔

ظریف کیخلاف امریکی پابندیوں کو شکست کا سامنا ہے: روس

روسی محکمہ خارجہ کی ترجمان "ماریا زاخاروا" نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف امریکی پابندیوں کو شکست کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا امریکہ، خلیج فارس میں کشیدگی پیدا کرنے کا خوہاں ہے اور واشنگٹن کیجانب سے ایران کیخلاف دباؤ میں اضافہ کرنے کیلئے آبنائے میں فوجی اتحاد تشکیل دینے کا عمل بھی امریکی حکام کا خام خیالی ہے۔ 

انہوں نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے بس میں ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف پابندیاں لگانے کے سوا کوئی اور حل نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہاکہ امریکہ ڈپلومٹیک طور پر ایران کے سامنے لاچار ہے۔

روسی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے اختلافات کو حل کرنے کے حوالے سے سارے سفارتی طریقوں کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف ایران کیخلاف پابندیاں لگائی ہیں۔

چین نے ظریف کیخلاف امریکی پابندیوں کی مخالف کی

چینی حکومت کے ترجمان نے ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف امریکی پابندیوں کے رد عمل میں کہا کہ چین کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے؛ ہم ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف امریکی حالیہ پابندیوں کے مخالف ہیں۔

"ہوا چون اینک" نے ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں لگانے اور دباؤ میں اضافہ کرنے سے سوائے کشیدگی کو بڑھانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اختلاف کو حل کرنے کا واحد طریقہ وہی مذاکرات ہے اور ہیمں امید ہے کہ امریکہ ایران کیساتھ مذاکرات کے ذریعے باہمی اختلافات کو حل کرے گا۔

چینی حکومت کے ترجمان نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ خطے میں قیام امن  و استحکام اور کشیدگی میں کم کرنے کیلئے کوشش کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، ایران کیساتھ مذاکرات کرنے کےحوالے سے اپنی متعدد درخواستوں کا احترام کرتے ہوئے کشیدگی کو بڑھانے کیلئے کوئی بغیر سوچ سمجھ ک اقدام نہ کرے۔

 پاکستان نے ڈپلومٹیک طریقوں پر زور دیا

پاکستانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے  ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف امریکی پابندیوں کے رد عمل میں کہا کہ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے اور سفارتی طریقوں سے اختلافات کو حل کرنا ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر "محمد فیصل" نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موقف سارے مسائل کو مذاکرات اور سفارتی طریقوں سے حل کرنا ہے۔

امریکہ، ظریف کی آواز کو دبا نہیں سکتا: وینزویلا

وینزویلا کے وزیر خارجہ "خورخہ آریزا" ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف امریکی پابندیوں کے رد عمل میں کہا کہ امریکہ اس خام خیالی میں ہے کہ وہ ظریف کیخلاف پابندیاں لگانے سے اس کی آواز کو دبا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ بدستور سفارتی طریقوں اور مذاکرات کا مخالف ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر آزاد ممالک کی عزت میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 1 =