امریکی پابندیاں، ظریف کی آواز کو دبا نہیں سکتیں: ایرانی مندوب

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ امریکہ کیجانب سے ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف پابندیاں عائد کرنے کا اقدام، مذاکرات کے حوالے امریکی دوہرے معیار کی علامت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، ظریف کیخلاف پابندیاں لگانے سے ان کی عقل اور منطق پر مبنی آواز کو دبا نہیں کرسکتا ہے۔

یہ بات "مجید تخت روانچی" نے جمعہ کے روز، ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے مزید کہا جیسا کہ دو ہفتے پچھلے ظریف کے دورہ نیوریاک کے موقع پر ان کی آمد و رفت پر عائد پابندیوں نے ایرانی وزیر خارجہ کی خردمندانہ سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ویسا ہی یہ پابندیاں ظریف کی عقل اور منطق پر مبنی آواز کو دبا نہیں کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کل سے اب تک متعدد غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کیساتھ انٹرویو کرنے کی بے شمار درخواستوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سب سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ امریکی حکومت نے پھر بھی غلط رویہ اپنایا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے ایران کیخلاف اپنی دشمن پالیسیوں کے تسلسل میں جمعرات کی رات کو ایرانی وزیر خارجہ کے نام کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں قرار دے دیا۔ 

ان پابندیوں کے مطابق محمد جواد ظریف کے امریکا اور امریکی حکومت کے زیر انتظام ممالک میں تمام اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور اس سے ان کے بیرون ملک سفر کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے حالیہ اقدام کے رد عمل میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی مجھ پر عائد پابندیوں کی وجہ یہ ہے کہ میں دنیا میں ایران کا مرکزی ترجمان ہوں، یہ حقیقت کیا اتنی تکلیف دہ ہے؟

ظریف نے خود پر لگی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا ایران سے باہر کوئی اثاثہ یا مفاد نہیں، اس سے مجھ پر یا میرے اہلخانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، مجھے اپنے ایجنڈا کے لیے اتنا بڑا خطرہ سمجھنے کے لیے آپ کا شکریہ۔


**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 4 =