ظریف کیخلاف پابندیاں امریکی بے بسی کو ظاہر کرتی ہیں: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محمکہ خارجہ نے ایک بیان میں امریکہ کیجانب سے ایرانی وزیر خارجہ کیخلاف پابندیاں عائد کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی انتظامیہ کی بے بسی کی واضح علامت ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ظریف کیخلاف پانبدیاں لگانے سے ایرانی وزیر خارجہ کے زبردست اور منطق پر مبنی سفارتکاری سے امریکی خوف  اور کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ظریف پر پابندیاں لگانا، ایرانی عوام کے حقوق اور ان کے مفادات کے دفاع کرنے سمیت امریکی معاشی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ایرانی محکمہ خارجہ بالخصوص محمد جواد ظریف کی کوششوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ہم بدستور تمام تر کوششوں سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے ایران کیخلاف اپنی دشمن پالیسیوں کے تسلسل میں جمعرات کی رات کو ایرانی وزیر خارجہ کے نام کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں قرار دے دیا۔ 

ان پابندیوں کے مطابق محمد جواد ظریف کے امریکا اور امریکی حکومت کے زیر انتظام ممالک میں تمام اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور اس سے ان کے بیرون ملک سفر کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے حالیہ اقدام کے رد عمل میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی مجھ پر عائد پابندیوں کی وجہ یہ ہے کہ میں دنیا میں ایران کا مرکزی ترجمان ہوں، یہ حقیقت کیا اتنی تکلیف دہ ہے؟

ظریف نے خود پر لگی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا ایران سے باہر کوئی اثاثہ یا مفاد نہیں، اس سے مجھ پر یا میرے اہلخانہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، مجھے اپنے ایجنڈا کے لیے اتنا بڑا خطرہ سمجھنے کے لیے آپ کا شکریہ۔


**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 4 =