21 جولائی، 2019 8:12 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83405603
0 Persons
ڈالر، امریکی معاشی جنگ کا ہتھیار بن گیا ہے: ظریف

نیویارک، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ڈالر کو دوسرے ممالک کے عوام کیخلاف امریکی معاشی جنگ کا ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سارے ممالک حتی کہ امریکہ کے اتحادی، ڈالر کو اپنے تجارتی لین دین سے ہٹانے کے خواہاں ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے اقوام متحدہ کی سماجی اور اقتصادی کونسل کی نشست میں شرکت کرنے کیلئے اپنے حالیہ دورہ نیو یارک کے موقع پر سی این این نیوز چینیل کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا جس کی تفصیل اب شائع ہوگئی ہے۔

انہوں نے ایران اورامریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے وقوع کے حوالے سے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی بھی کسی ملک کیساتھ جنگ کا اغاز نہیں کیا ہے لیکن ایران کیخلاف جنگ شروع کرنے والے اسے ختم نہیں کرسکتے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ابھـی ایران کیخلاف ایک معاشی جنگ جاری ہے جس نے ایرانی عوام کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کیساتھ فوجی جنگ کا خواہاں نہیں لیکن انہوں نے ایران کیخلاف معاشی جنگ کا آغاز کیا ہے۔

ظریف نے کہا کہ معاشی جنگ کسی فخر کرنے والی بات نہیں کیونکہ فوجی کاروائی میں نہتے لوگوں اور عام شہریوں کو جزوی طور پر نقصاں پہنجایا جائے گا جبکہ معاشی جنگ میں وہ سب سے پہلے حملوں کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔

انہوں نے ایرانی تیل کیخلاف لگائی گئی پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ ہماری تیل کی فروخت میں کمی آئی لیکن ہم نے اس مسلئے کے حل نکالیں گے اور اپنی تیل کی فروخت کا سلیلہ جاری رکھیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے "کیا ایران خلیج فارس میں کشیدگی پیدا کرنے کے درپے ہے؟" کے جواب میں کہا کہ ہم تو خود خلیج فارس میں موجود ہیں اور ہمارے خلیج فارس میں ایک لاکھ 500 میلوں سے زائد ساحلی لائنز ہیں اور آبنائے ہرمز بھی ایران کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے؛ یہ پانی ہماری زندگی کا لائن ہے اس لئے اس کے امن کی فراہمی ہمارے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تاریخ کے دوران ایران نے بدستوراس خطے اور ان پانیوں میں امن کو فراہم کیا ہے اور اب امریکہ، اس پانیوں میں دخل اندازی کرنے کے ذریعے ایران میں عدم استحکام پھیلانا چاہتا ہے حالانکہ وہ اس پانیوں کو کسی ملک کیلئے امن اور کسی دوسرے ملک کیلئے بدامن قرار نہیں دے سکتا۔

ظریف نے خلیج فارس میں ممکنہ اتفاقی تصادم کے حوالے سے کہا کہ اگر خلیج فارس جیسی چھوٹی سمندری حدود میں بہت زیادہ غیر ملکی بحری جہاز موجود ہو تو تصادم وقوع پذیر ہوگا۔

انہوں نے 1988 کے حادثے کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اسی سال میں امریکی بحری بیڑے نے 290 مسافروں پر مشتمل ایرانی مسافر بردار طیارے کو میزائل کا نشانہ بنا کر اسے مارگرایا۔

ظریف نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہر کسی قسم کے اتفاقی تصادم تباہی کا باعث بن سکتا ہے لہذا جنگوں کو رکنے کے حوالے سے سبوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کیجانب سے اقوام متحدہ میں تعینات ایرانی سفارتکاروں کی آمد و رفت پر پابندیاں لگانے کو غیر انسانی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اس اقدام کی بدولت ایرانی سفارتکاروں کے بچے سکول نہیں جا سکتے ہیں اور یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور میزبان ملک کی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ظریف نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو کی جانب سے ایرانی نیوز چینیلوں کیساتھ انٹرویو کی ہر کسی درخواست کو ماننے کے دعوی کے حوالے سے کہا کہ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بارہا ان کیساتھ گفتگو کرنے کی درخواست دی ہے مگر انہوں نے تردید کی ہے بالکل میرے برعکس جو ہمیشہ امریکی ذرائع ابلاغ کیساتھ انٹرویو کرتا ہوں۔

انہوں نے " ٹرمپ نے کہا کہایرانی نظام کی تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں، پر یقین رکھتے ہیں؟ " کے سوال کے جواب میں کہ وہ یقین کرتے ہیں کہ ٹرمپ ایرانی نظام کی تبدیلی کے خواہاں نہیں لیکن ان کے آس پاس لوگوں کا خواہش یہی ہے۔

انہوں نے ایرانی فضای حدود کی دراندازی کرنے والے امریکی جاسوس ڈروں کو مارگرانے کے حوالے سے کہا کہ ہم اپنی سزمین کا دفاع کرتے ہیں اور امریکی جاسوس ڈرون نے ایرانی فضائی حدود کی دراندازی کی اسی لئے ہم نے اسے مارگرایا کیونکہ وہ ایرانی حدود میں داخل نہ ہونے کی صورت میں بھی جاسوسی کر سکتا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی جاسوس ڈرون کی ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونا نہ صرف ملکی سالمیت بلکہ ہماری قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

ظریف نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں یہ برداشت نہیں کریں گے کہ غیرملکی، 6 ہزار میلوں کے فاصلے سے دور ہمارے خطے میں آکر ہماری ملکی سالمیت اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیں۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 2 =