17 جولائی، 2019 11:22 AM
Journalist ID: 2392
News Code: 83399565
0 Persons
قرارداد 598: شوم اتحادی کیخلاف ایران کی کامیابی

تہران، ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران نے 18 جولائی 1988 کو سابق عراقی صدر صدام حسین کی قیادت میں آٹھ سالہ تحمیلی جنگ کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 598 کو منظور کرلیا اس طرح مغربی اور مشرقی حکومتوں کی حمایت ہونے والے ایرانی عوام کے خلاف اس جنگ خاتمہ ہوگیا.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1987 کو اس قرارداد کو پاس کیا مگر ایک سال کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے درمیان منظور اور نفاذ کیا گیا.
اس قرارداد کی منظوری کے بعد سابق عامر عراقی صدر اس جنگ کے آغاز کرنے والا شخص مانا گیا جس کا مقصد کم عمر اسلامی انقلاب کی ترقی کو روکنا تھا مگر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگیا.
صدام کی حکومت نے 1980 کے ستمبر مہینے میں 80 سے زائد ممالک کی سرکاری اور غیرسرکاری حمایت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا اور یہ اس تاریخی واقعے کے اہم نکات میں سے ایک ہے.
امریکہ ایران کے خلاف جنگ کا اصلی حامی تھا۔ سابق امریکی صدر کارتر کے سلامتی مشیر برژینسکی نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف ایک علاقائی جنگ کا آغاز اسلامی انقلاب کی منتقلی کو روکنے کے لئے ایک مناسب راستہ ہے.
اس امریکی اسٹریٹجسٹ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو اسلامی انقلاب سے نمٹنے کے لئے ان حکومتوں جو ایران کے خلاف فوجی آپریشن کرسکتی ہیں پر توجہ مرکوز رکھنا چاہئیے.
موجودہ دستاویزات کی بنیاد پر ایران کے خلاف صدام کے حملے کے آغاز سے صرف ایک ہفتے کے بعد امریکی ائیر فورس نے ایرانی ہوائی آپریشن کی شناخت اور عراقی فورس کی اطلاع کے لئے "آواکس" نامی پانچ جاسوس ہوائی جہاز جس وقت سب سے زیادہ اعلی درجے کے جاسوسی ہوائی جہاز تھے، کو سعودی عرب میں سپرد کرلیا.
امریکی جاسوسی تنظیم سی آئی اے نے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے موقع پر ایران کی فوجی اور تیل کی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر کو عراقی حکومت کے لئے آمادہ کیا.
امریکی حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران عراقی عوامی رائے کی تیاری کے لئے عراقی حکومت میں 840 ملین ڈالر کو پیش کردیا.
امریکہ نے اس وقت میں عراق کو ہتھیاروں کی خریداری اور تیاری کے لئے ایک ارب ڈالر کا قرضہ دے دیا.
وائٹ ہاؤس نے ایران کی جانب سے جنگ کی ضروریات کی فراہمی کو روکنے کے لئے سعودی عرب کو تیل کی قیمتوں کی کمی کے لئے حوصلہ افزائی کی.
معیشتی آمار اور ارقام کے مطابق، صدام کی حکومت نے ایران کے خلاف آٹھ سالہ تحمیلی جنگ کے دوران اپنی معیشتی ضروریات کی فراہمی کے لئے مغربی حکومتوں سے 60 ارب ڈالر مالی امداد وصول کردی.
ایران کے خلاف صدام کا جنگ ہتھیاری اور مالیاتی کے لحاظ سے مکمل طور پر غیرمساوی تھا.
عالمی مغربی اور مشرقی حکومتیں بالخصوص امریکہ اور ان کے مغربی اتحادی نے صدام کی حکومت کے لئے بڑی تعداد میں لڑاکا طیاروں، ٹنکر میزائل اور دوسری فوجی سامان سمیت ممنوع کیمیائی ہتھیاروں اور ضروری فوجی تربیت کو پیش کردیا جیسا عراق ایک بڑی جنگی گاڑی بن گیا ہے.
آٹھ سالہ جنگ کے دوران عرب ممالک کے مابین سعودی عرب عراق کا اصلی ترین حامی تھا اور خلیج فارس ممالک کے 70 ارب ڈالر مالیاتی امداد سے 30 ارب ڈالر سے زائد سعودی عرب کا حصہ تھا.
صدام کی حکومت کی وسیع حمایتوں اور ایران کے خلاف آٹھ سالہ نامساوی جنگ کے باوجود ایرانی عوام کے مثالی مزاحمت اور بانی انقلاب کی ہوشیاری کے ساتھ ایرانی مٹی کا ایک ذرہ بھی جارحانہ حکومت پر قبضہ نہیں کیا گیا.
اس جنگ کا اصلی مقصد جو اسلامی انقلاب کی ترقی اور ایران کی آزادی کی تباہی تھا کبھی بھی حاصل نہیں ہوگیا.
9393**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 1 =