پاک ایران تجارتی تعلقات، ترقی کی راہ پر گامزن ہیں: سابق پاکستانی سفیر

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات سابق پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات، ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی توسیع کیلئے باہمی تجارت کو مزید فروغ دینا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "آصف علی خان دورانی" نے ارنا نمائندے کیساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے حجم کی شرح 2۔1 ارب ڈالر ہے اور تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے دونوں ملکوں کے اندر بہت ساری صلاحیتوں کے پیش نظر یہ رقم قابل قبول نہیں ہے۔

سابق پاکستانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ دو پڑوسیوں کے درمیان دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کی بے پناہ گنجائش موجود ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں نے پاک ایران بینکنگ تعلقات کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی ہیں جس کے نتیجے میں ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات پر بُرے اثرات مرتب ہوگئے ہیں۔

آصف علی خان نے دورانی نے مزید کہا کہ پاکستانی بینکوں کی سرگرمیاں ڈالر پر مبنی ہیں اور اسی وجہ سے ایران مخالف پابندیوں کی بدولت، دونوں ملکوں کے درمیان بینکنگ تعلقات مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کے اعلی حکام بدستور ایک دوسرے کیساتھ رابطے میں رہیں اور اس کے علاوہ تجارتی تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں بشمول ٹریڈ اور نان ٹریڈ رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔

پاکستانی سفارتکار نے کہا ہے کہ ان ملک ایران کیساتھ آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کو پیش کیا ہے اور ہیمں امید ہے کہ جلد از جلد فری ٹریڈ ایگریمنٹ حتمی شکل اختیار کرکے، نفاذ ہوجائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی وقت میں ایران اور پاکستان کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بھی مشترکہ سرحدوں پر دشمن عناصر کے مشتعل انگیز اقدامات کے حوالے سے دونوں ملکوں کے خدشات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

پاکستان کے سابق سفیر نے مزید کہا کہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان دیگر شعبوں بشمول دفاعی، تعلیمی، تحقیقاتی، صحت، سیاحت، کھیل کے میدان میں تعاون سمیت ثقافتی تبادلہ بھی پاک ایران تعلقات کی توسیع کا باعث ہوجاتا ہے۔

 انہوں نے اس بات کے پیش نظر کے حالیہ مہینوں میں ایرانی حکام نے بارہا عرب ہمسایہ ممالک کیساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات برقرار کرنے میں دلچبسی کا اظہار کیا ہے اور دوسری طرف بھی حکومت پاکستان کیجانب سے کئی بار ایران اور عرب ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے اپنی آمادگی کے اظہار کے تناظر میں کہا کہ امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی برقرار کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

پاکستانی سفارتکار نے مزید کہا کہ اگر دنیا میں موجودہ ہلچل اور خراب صورتحال پر نظر ڈالیں تو اس بات کا پتہ جل جائے گا کہ مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنازعات کس حد تک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ امت مسلمہ کے درمیان یکجہتی کا فروغ ہوگا اگرچہ دنیا کے موجودہ واقعات کچھ مختلف کہانیاں بتا رہی ہیں جو نہ صرف افسوس کی باعث ہیں بلکہ عالم اسلام کے سارے گرانقدر معنوی اور مادی وسائل کو تباہ کرنے جار رہی ہیں۔

آصف علی خان نے دورانی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مسلم ممالک کے تعلقات کی بحالی کیلئے تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے اگر وہ پاکستان کے ثالثی کردار کو ماننے پر تیار ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کے تعلقات کی بحالی کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں کیونکہ اختلافات کو حل کرنے کا واحد طریقے کار مذاکرات ہی ہے۔

سابق پاکستانی سفیر نے مشترکہ سرحدوں میں امن و سلامتی کو مزید تقویت دینے کے حوالے سے پاکستان کیجانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق کہا کہ حکومت پاکستان نے جنوبی سرحدوں میں ایف سی اہلکاروں کو تعینات کردیا ہے تا کہ وہ سنجیدگی سے ایرانی سرحدوں کی نگرانی کرلیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی علاقے تربت میں تعینات ایف سی اہلکاروں نے دشمن مخالف عناصر کی نقل و حرکت کو جائزہ لینے سمیت منظم یافتہ جرائم جیسے انسانی اسمگلنگ اور منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے انتھک اقدامات کیے ہیں۔

پاکستانی سفارتکار نے افغان عمل امن کے حوالے سے ایران اور پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے کردار کی اہمیت کے بارے میں کہا کہ در اصل افغانستان میں قیام امن، علاقے میں قیام امن و استحکام کیلئے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان اس سلسلے میں مشترکہ طور پر کام کر سکیں تو یہ بات افغان امن عمل کو مزید تقویت دینے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کے سابق سفیر نے کہا کہ اب بھی افغان مسئلے اور اس حوالے سے تعاون کے طریقے کار کا جائزہ لینے کے حوالے سے دونوں ممالک کے وزارت خارجہ کے درمیان ایک میکنزم قائم ہوگیا ہے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 6 =