جوہری معاہدے پر ایران نے صبر کیا تاہم یورپ نے لاپرواہی دیکھائی: تخت روانچی

نیو یارک، ارنا - اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ مغربی فریق کی جانب سے جوہری معاہدے کے نفاذ پر ایران نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا مگر یورپی ممالک نے اس فائدہ نہ اٹھاتے ہوئے لاپروائی کا مظاہرہ کیا.


«مجید تخت روانچی» نے ارنا نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ یورپی فریقین نے اپنے وعدوں پر عمل کرنے سے متعلق ایران کے صبر سے فائدہ نہیں اٹھایا.
انہوں نے اس سوال کے جواب پر کہ مغربی فریق اپنے وعدے نبھانے کے بجائے غیرمتعلقہ مسائل بشمول ایران کی میزائل سرگرمیوں کی بات کرتے ہیں، کہا کہ خطے میں آج جو کچھ ہورہا ہے اس کی وجہ مغربی ممالک بالخصوص امریکی پالیسی ہے.
ایرانی مندوب نے مزید کہا کہ اب ایران کو ملزم ٹھرانے کی باتوں کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی جبکہ مغرب نے علاقائی ممالک کو بڑے پیمانے پر ہتھیار دے کر خطے میں کشیدگی پیدا کی.
انہوں نے جوہری معاہدے سے متعلق کہا کہ عالمی جوہری ایجنسی نے بارہا ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی تاہم اس کے باوجود دیگر فریقین نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا.
تخت روانچی نے مزید کہا کہ ایران نے ایک سال صبر کا مظاہرہ کیا، اسی دوران امریکہ نے غیرقانونی پابندیاں لگائیں اور یورپی فریقی نے زبانی جمع خرچ کی باتیں کیں تاہم کسی نے بھی کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا اور ایران بھی مجبور ہے کہ اگلے مراحل میں اپنے مفادات کے تحت فیصلہ اٹھائے.
یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کے بعض حصوں پر عمل در آمد کو روکنے کا پہلا مرحلہ گزشتہ 8 مئی کو شروع ہوا اور اس کا اگلا مرحلہ 7 جولائی سے شروع ہوگا.
انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر حس روحانی کی جانب سے جوہری معاہدے میں شامل ممالک کے سربراہوں اور یورپی یونین کی سربراہ کو بھیجے گئے خطوط میں بھی اس بات کا اعلان کیا گیا تھا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 9 =