اتحاد امت باہمی بقا کیلئے ناگزیر ہے: پاکستانی مذہبی رہنما

تہران، ارنا- اتحاد المدارس العربیہ پاکستان کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ خطے میں پر امن بقائے باہمی کے حصول کیلئے مسلمانوں کے صفوں میں اتحاد اور ہم آہنگی کی صدا حقیقی معنوں میں بلند کرنی ہوگی۔ 

ان خیالات کا اظہار "حافظ علاوالدین سارنگ" جو بلوچستان کی جمعیت علماء اسلام کی سینٹرل کونسل کے رکن ممبر بھی ہیں نے ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ 
انہوں نے اتحاد اسلام کے حوالے سے مختلف منعقد ہونے والی بین الاقوامی اور قومی کانفرنسوں کے کردار کے حوالے سے کہا کہ وہ بے شک فائدہ مند ہیں کیونکہ تبدیلی ایک لمحے یا ایک مہینے میں نہیں آتی بلکہ اس کے لیے جہد مسلسل چاہیے ہوتی ہیں، اب تک اتحاد بین المسلمین کی جتنی کانفرنسیں ہوئی ہیں ان سے واقعتا ایک حد تک خواص میں مثبت تبدیلی کے اثرات نمایاں ہوئے ہیں۔

حافظ علاوالدین سارنگ نے حساس اور اہم علاقے مشرق وسطی میں مذہبی اور قومی اختلافات کے تناظر میں پر امن بقائے باہمی کے حصول کے حوالے سے کہا کہ مشرق وسطی یہ ایک انتہائی پیچیدہ بلکہ میں یوں کہوں گا کہ ایک خستہ و تباہ حال خطہ بن چکا ہے، جہاں پر بین الاقوامی ممالک اپنی طاقت ایک دوسرے پر آزمانے کی پریکٹس ان معصوم مسلمانوں پر کررہے ہیں، جو اب بے یار و مدد گار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان بین الاقوامی طاقتوں کو یہ موقع ہم نے خود ہی دیا ہے جب تک اپنے صفوں میں اتحاد و ہم آہنگی کی صدا حقیقی معنوں میں بلند نہیں کریں گے تب تک یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔

اتحاد المدارس العربیہ پاکستان کے نائب سربراہ نے بقائے باہمی پر مذہبی اور قومی اختلافات کے حوالے سے کہا کہ اختلاف اخلاقی حدود و قیود میں ایک بہتر و مثبت شئی ہے، جن سے مسائل میں مزید وسعت و باریکی بینی ظاہر ہوتی ہے، البتہ یہ عمل نیک نیتی سے ہونی چاہیئے نہ کہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لیے در اصل اگر میں مختصر طور پر کہہ سکتا ہوں کہ "اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں"

انہوں نے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان افراتفری پھیلانے والے عناصر کے مقاصد سمیت ان کیخلاف مقابلہ کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں کہا کہ  قرآن پاک میں اللہ تعالی نے واضح الفاظ میں اپنے آخری پیغمبر اور اس کے امت کو یعنی امت مسلمہ کو مخاطب فرمایا کہ یہود و نصاریٰ تمہارے کبھی دوست نہیں بن سکتے آج بھی جو نادیدہ قوتیں اہل سنت و اہل تشیع کے مابین اتفاق و اتحاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں، وہ یہود و نصاریٰ ہی تو ہیں جب تک ان کے بہکاوے میں ہوں گے انجام یہی ہوگا جو موجودہ وقت میں ایک دوسرے کے سنگ دست و گریبان ہونے کے صورت میں ہیں۔

سارنگ جو پاکستان کے ادارہ برائے پائیدار امن و ترقی کے سربراہ بھی ہیں، نے حالیہ دنوں میں بعض مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے والے عناصر کے مقاصد کے حوالے سے کہا کہ بین الاقوامی قوتیں اپنی مالی ساک کو برقرار رکھنے اور اپنے انفرادی رائے کو مظلوم مسلمانوں پر مسلط کرنے کو رواں سمجھتے ہیں ان کے مقاصد مجموعی طور پر واضح ہے کہ آپس میں انہیں لڑا کر اپنی حکمران جماعتوں کو جائز اور رواں رکھنا۔

انہوں نے پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات کے حوالے سے کہا کہ پاک ایران تعلقات اب ایک مثبت سمت پر جاری ہیں جن کی واضح وجہ گذشتہ ماہ رمضان میں ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستانی دورہ اور وہاں کے حکومتی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کرنا اور بندر عباس و چابہار بندرگاہ کو گودار بندر گاہ سے لنک کرنا ہے۔ یہ اس بات کی وجہ ہے کہ پاک ایران تعلقات اب ایک اچھے سمت پر جاری ہیں۔

 انہوں نے پاک ایران تعلقات کے فروغ کے حوالے سے کہا کہ ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ دو طرفہ تجارتی و سماجی تعلقات کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کہ سرزمین کو دہشتگردی سے روکنے اور باہمی کلچر ایکسچینج کے پروگرامات کے انعقاد سے ان دو اسلامی ریاستوں میں ہم آہنگی و اعتماد کو مزید فروغ میسر ہوگا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@ 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 0 =