ایران پر امریکی پابندیاں قوانین کیخلاف وزری ہیں: رپورٹر اقوام متحدہ

لندن، ارنا - یکطرفہ اقدامات اور پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں سے ایران معاشی ناکہ بندی کا شکار ہے اور یہ انسانی ہمدری کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں.

یہ بات "ادریس جزایری" نے جمعرات کے روز ویانا میں یکطرفہ اقدامات اور اس کے اثرات کے عنوان سے منعقد ہونے والے ایک بین الاقوامی سمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہی.
اس سمینار کا انعقاد ایران، کیوبا اور وینزویلا کی مشترکہ تجویز پر کیا گیا جس میں روس، شام او چین نے بھی حصہ ڈالا.
اس سمینار سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے کہا کہ امریکی پابندیاں اپنی نوعیت کی شدید پابندی ہے جو ممالک کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے مختلف ممالک کے خلاف یکطرفہ اقدامات اور شدید پابندیوں میں اضافے سے بہت مسائل پیدا ہوئے ہیں، ہمیں آئے روز اخبارات میں پڑھنے کو ملتا ہے کہ امریکہ نے کسی ملک پر نئی پابندیاں لگائیں.
ادریس جزایری نے ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے نکل گیا جبکہ اس معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق گزشتہ ایک دہائی سے جاری تنازع کو ختم کرنا تھا.
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران جوہری معاہدے کی توثیق کردی جس کے باوجود امریکہ، نہ صرف ایران پر پھر سے پابندیاں لگائیں بلکہ اس نے دوسرے ملکوں کو بھی ڈرایا کہ وہ ایران سے تجارت نہ کریں.
اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کو عالمی مالیاتی تبادلے کے نظام سوئیفٹ سے بھی الگ کرایا جس کی وجہ سے ایران کو ادویات اور دیگر اشیائے ضرورت کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں.
انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیوں سے ایران کودرپیش صورتحال پیچیدہ ہے جبکہ ایسے اقدامات عالمی قوانین اور انسانی ہمدری کے اصولوں کے برعکس ہیں.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@ 
 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 2 =