26 جون، 2019 4:35 PM
Journalist ID: 1837
News Code: 83371381
0 Persons
سردشت، دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کا پہلا شکار

مہاباد، ارنا - 26 جون 1987میں عراق کا ظالم آمر کے حکم کے ذریعے ایران کے مغربی سرحدی شہر 'سردشت' پر کیمیائی بمباری نے اس شہر کو دنیا میں مہلک اور کیمیائی ہتھیاروں کے پہلے شکار ہونے والے شہروں کی فہرست میں قرار دیا.

ایرانی نہتے عوام کے خلاف صدام کی اس ظالمانہ جارحیت میں بہت سے سامراجی طاقتوں نے صدام کی پشت پناہی کی.
اس کیمیائی حملے میں سردشت کے 119 نہتے شہری شہید اور ہزاروں افراد زخمی ہو گئے اور اس حملے سے 32 سال گزرنے کے باوجود اس کے اثرات متاثرہ لوگوں میں نظر آرہے ہیں.
لیکن ان مصیبتوں سے بدتر یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیمیں ان جرائم اور جارحیت پر خاموش بیٹھے ہیں اور ابھی بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے لیے ظالم صدام کی مذمت نہیں کی ہے۔
اس جارحیت سے خطے کے بعض طاقتور ممالک کی حمایت نے صدام کے اس وحشیانہ اقدام کو عالمی برادری کی دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھا ہے.
عالمی برادری جابر حکمران صدام کے جرائم پر عالمی برادری کی غفلت  کی وجہ سے اس ظالم آمر نے  15 مارس 1988  ایرانی علاقے حلبچہ پر کیمیائی حملہ کردیا جس ہولناک حملے کے نتیجے میں 5 ہزار نہتے شہری شہید ہوگئے
آج اس دردناک واقعہ کی 32 ویں سالگرہ میں سردشت شہریوں نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ظالم حکومت کے جرائم کو بین الاقوامی اداروں میں جائزہ کر کے اس حملے کے شہیدوں کی یاد میں 28 جون کو 'دنیا میں مہلک ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے ساتھ مقابلہ' کا نام رکھیں.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@
 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 7 =