26 جون، 2019 3:29 PM
Journalist ID: 1312
News Code: 83371261
0 Persons
ظالم آمر صدام کے کیمیائی حملوں کے ہولناک اثرات

تہران، ارنا - ناصر افشاری ان ہزاروں ایرانی فوجی اہلکاروں میں سے ایک ہیں جو ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ عراقی جنگ میں کیمیائی حملوں میں شدید زخمی ہوئے اور اب بھی تکلیف میں ہیں.

انہوں نے کیمیائی حملوں کے ہولناک اثرات اور اس سے متعلق عالمی برادری کی غفلت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ظالم آمر صدام کے جنگی طیاروں نے 28 جون 1987 میں ایرانی علاقے آذربائیجان غربی پر کیمیائی بم برسائے تو اس کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد شہید ہوئے جبکہ ہزاروں شہری شدید زخمی ہوئے.
ناصر افشاری کا کہنا تھا کہ سردشت علاقے کے عوام کیمیائی حملوں کو 32 سال گزرنے کے باوجود بھی آج ان کے اثرات سے تکلیف برداشت کرنے پر مجبور ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارے ایرانی قوم کے خلاف صدام کے ہولناک جرائم بالخصوص کیمیائی حملوں پر خاموش رہے اور ہرگز ظالم صدام کی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر مذمت نہیں کی.
افشاری نے کہا کہ صدام کو کیمیائی ہتھیار دینے والے ہی یورپ اور دیگر مغربی ممالک تھے تو وہ بھلا صدام کی کیوں مذمت کرتے. ان ممالک صدام کی مذمت کرنے سے پہلے اپنی مذمت کرنی چاہئے.
انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ 16 سال سے کیمیائی ہتھیار سے ہونے والے تکلیف کو برداشت کررہے ہیں اور ان کی اب تک 60 دفعہ سرجری بھی ہوئی ہے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنیوا کنونشن 1925 کے تحت دنیا کی کسی بھی جنگوں میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی ہے تاہم صدام کی فورسز نے ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا.

9 جولائی 1987 کو صدام کی فضائیہ نے ایرانی علاقے سردشت پر فضائی حملے کے ذریعے کیمیائی بم پھینکا جس میں 130 نہتے افراد جو زیادہ تر کُرد برادری سے تعلق رکھتے تھے، شہید ہوئے اور کئی ہزار لوگ بھی متاثر ہوئے جن میں سے زیادہ تر لوگ آج زندہ تو ہیں مگر اس کے اثرات سے تکلیف میں ہیں.

بے شک اسلامی جمہوریہ ایران کیمیائی حملوں کا بڑا شکار ہے. آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران صدام کی فوج نے کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے ایران کے مختلف علاقوں پر حملہ کیا جس میں ہزاروں نہتے شہری شہید ہوئے آج بھی ان حملوں سے تین دہائیاں کے باوجود باوجود اس کے اثرات متاثرہ لوگوں میں نظر آرہے ہیں.

تاریخ کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد ایران کیمیائی حملوں کا شکار ہونے والا بڑا ملک ہے جس کے خلاف ایک ظالم آمر نے ایسا جرم کیا جسے دنیا کی بڑی مغربی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل رہی.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 11 =