فلسطین، مشرق وسطی کا سب سے اہم مسئلہ ہے

تہران، ارنا- پاکستان کی نمل یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں سب سے اہم مسئلہ فلسطین ہے جہاں کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اس حوالے سے ساری اسلامی ممالک کی قیادت کو مسئلہ فلسطین کے مستقل اور دیرپا حل کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "عمر ریاض عباس" پاکستان کی نمل یونیورسٹی (national university of modern languages) کے پروفیسر اور سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار نے ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اتحاد اسلامی کے حوالے سے منعقد ہونے والی متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنس کے کردار کے حوالے سے کہا کہ حالیہ دنوں میں تہران میں کانفرنس اتحاد عالم اسلام اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ نہ صرف ایک سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ اس کانفرنس کے ذریعے باہمی اختلافات کا حل تلاش کرنے کا ایک سنہری موقع ہے.

پاکستانی پروفیسر نے کہا ہے کہ تہران یونیورسٹی نے امن عالم اور وحدت مسلمین کے موضوع کو چن کر امت مسلمہ کو مل بیٹھ کر اپنے دیرینہ مسائل کا حل تلاش کرنے کا گرانقدر موقع فراہم کیا ہے جہاں تمام عالم اسلام کی مقتدر جامعات اور اداروں کی اہم شخصیات مسلم امہ کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے عملی اقدامات اور حل تلاش کریں گے. میرے خیال میں یہ کانفرنس ایک تاریخ رقم کرنے جارہی ہے جس سے عالم اسلام کو فائدہ ہو گا۔.

انہوں نے حساس اور اہم علاقے مشرق وسطی میں مذہبی اور قومی اختلافات کے تناظر میں پر امن بقائے باہمی کے حصول کے حوالے سے کہا کہ مشرق وسطی میں سب سے اہم مسئلہ فلسطین ہے جہاں کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اس حوالے سے ساری اسلامی ممالک کی قیادت کو مسئلہ فلسطین کے مستقل اور دیرپا حل کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا استعماری قوتیں اور صیہونی لابی مسلمانوں کے لہو سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کر رہی ہے او آئی سی اور عرب لیگ کو غیرت وحمیت کا عملی مظاہرہ کرنا ہو گا۔

پاکستانی سیاسی تجزیہ کار نے بقائے باہمی پر مذہبی اختلافات کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ مذہبی اختلاف حقیقت کی تلاش اور باہمی اتحاد کو ٹھیس نہ پہنچائیں تو درست اور بین المسالک ہم آہنگی وقت کا ناگزیر تقاضا ہے مقدسات کا احترام اور ایک دوسرے کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

 انہوں نے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان افراتفری پھیلانے والے عناصر کے مقاصد کے حوالے سے کہا کہ ہر وہ شخص جو اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اختلافات اور تفرقہ کو ہوا دیتا ہے وہ عالم اسلام کا کھلا دشمن اور شیطانی طاقتوں کا آلہ کار ہے۔

 انہوں نے حالیہ دنوں میں بعض مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے والے عناصر کے مقاصد کے حوالے سے کہا کہ اسلامی ممالک کے مابین تکفیری اور خارجی طاقتیں سرگرم عمل ہیں ان کو بے نقاب کرکے عالم اسلام اپنے باہمی تنازعات مل بیٹھ کر حل کرے جس کیلئے مذاکرات ہی واحد حل ہے۔

ڈاکتر عمر ریاض عباس نے ایران اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے کہا کہ ایران پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ملکوں کے مابین تہذیبی و ثقافتی اور فکری و نظریاتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ایران نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور قیام پاکستان کے بعد سے یہ دیرینہ دوستی مزید مستحکم ہوئی. چند عناصر وقتا فوقتاً اس میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ دوستی پرامن بقائے باہمی اور محبت پر مبنی لازوال دوستی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 13 =