دنیا میں اتحاد اسلام کے فروغ سے متعلق سب سے زیادہ کوشش ایران نے کی ہے

تہران، ارنا- ایران سے ملحقہ پاکستانی سرحدی صوبے بلوچستان کے امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں اتحاد اسلام کے حوالے سے سب سے زیادہ کوشش اسلامی جمہوریہ ایران نے کی ہے اور دنیا میں شاید کسی اور کی توجہ اتنی زیادہ اس اہم کار پر نہ ہو جتنی کی ایران کی توجہ اس پر ہے۔

ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی بلوچستان "مولانا عبدالحق ہاشمی" نے ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اتحاد اسلام کے حوالے سے مختلف منعقد ہونے والی بین الاقوامی اور قومی کانفرنس کے کردار کے حوالے سے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں اتحاد اسلامی کے حوالے سے جتنا کام جمہوریہ اسلامی ایران کر رہا ہے وہ بہت قابل تعریف اور بہت قابل قدر کام ہے اور اور یہ اہم اسی لئے کہ اس وقت دنیا آپس میں تعلق کی اور ایک دوسرے کیساتھ قربت کی محتاج ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف مسلمانوں ہی کے بیج میں نہیں ہے بلکہ انسانی معاشرہ اس کی محتاج ہے کہ لوگ ایک دوسرے کیساتھ قریب ہو اور ایک دوسرے کو سمجھیں اور ایک دوسرے کو وہی حق دیں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں تو اس اعتبار سے اس کا شعور پیدا کرنے اور لوگوں کے اندر اس کا احساس اجا گر کرنے کے حوالے سے جمہوریہ اسلامی ایران کی کوششیں بہت ہی قابل قدر ہے۔

امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے حساس اور اہم علاقے مشرق وسطی میں مذہبی اور قومی اختلافات کے تناظر میں پر امن بقائے باہمی کے حصول کے حوالے سے کہا کہ بقائے باہمی کی اہم منزل تک پہنچنے کیلئے بہت ضروری ہے کہ مسلمان بھی اور عام انسان بھی ایک دوسرے کو قبول کریں اور ایک دوسرے کو اپنا جیسا سمجھیں اور انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ یہ انسانی حق اور حق حیات یہ سب کا مشترک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی طور پر بھی جو ہمارے بنیادی اصولوں اور جو ہماری مشترکات ہیں وہ سب ایک ہیں یعنی ہمارا جو عقیدہ ہے وہ یکسان ہے تو جب عقیدہ یکسان ہے جو چھوٹی چھوٹی جزویات ہیں اس کے اندر جو اختلاف ہے وہ بنیادی اصولوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے ہیں اور ان چیزوں کو تکرار کے ساتھ سمجھانے سے لوگوں کے اندر راسخ ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہ ایسے شرپسند لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں کہ جو چھوٹے سے اختلاف کو بہت زیادہ بڑھا کے پیش کر رہے ہیں وہ ایک جزوی اور فرعی مسئلے کو  اساسی مسئلہ بتاتے ہیں جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے اسی بنا پر یہ بہت ضروی ہے کہ ہم مسلسل کوششوں سے اپنی دعوت کو لوگوں کو دیتے رہتے اسی لئے کہ دوسری طرف شرپسندوں کی دعوت بھی لوگوں کے درمیان پھیلاتی رہتی ہے اور لوگوں تک پہنچتی رہتی ہے لہذا ہم ایسا کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک دفاعی جنگ ہے اور یہ دفاعی جنگ اس وقت تک برقرار ہے جب تک کچھ شر پسند اور اسلام دشمن عناصر یہاں فتنہ ڈالنے، دسیسہ کاری اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کرتے رہیں۔

 مولوی عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ اسی لئے اس کا بنیادی علاج یہ ہے کہ ہم اپنے بنیادی اساس اور اصولوں کے اوپر کھڑے رہیں اور بدستور لوگوں کو راہنمائی اور ہدایت کا کام کرتے رہیں۔

انہوں نے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان افراتفری پھیلانے والوں کے حوالے سے کہا کہ ہم کوئٹہ میں عینی شاہد ہیں کہ جو ہمارے اہل تشیع کے بھائی ہیں ان کو کس طرح سے اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کو قتل و غارت سے گزارا جاتا ہے ان کا خون بہایا جاتا ہے اور ہم وہاں پر بھی جب کبھی اس طرح کے کوئی واقعہ ہوتا ہے اپنے شیعی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھی کوئٹہ میں ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں بہت غریب سبزی بھیجنے والے سبزی مندی میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تو برادری اہل سنت، اہل تشیع کیساتھ اظہار ہمدری کرتے ہوئے ان کیساتھ کھڑے ہوگئے اسی لئے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ شیعی اور اہل سنت کے درمیان کوئی بینادی اختلاف نہیں ہے جس کی بنیاد پر ہم ان لوگوں سے نفرت کریں وہ ایک مسلمان امت کا ایک حصہ ہیں اور پوری اسلامی تاریخ کے اندر کسی بھی حکومت نے کسی بھی ریاست نے اور کسی بھی خلافت نے بحثیت مجموعی طور پر کے اہل تشیع کو اسلام کے باہر قرار نہیں دیا ہے یہ بہت بڑی وجہ ہے کہ اور یہ بہت شاز نظریہ ہے اور در اصل منفرد لوگوں کا نظریہ ہے جن کی کوشش یہ ہے کہ اس کو امت کے اوپر مسلط کریں۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان، بہت ساری کوششوں کے باوجود کوئٹہ میں اس طرح کے دہشتگردانہ واقعات کو ختم کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوگئی ہے اور اس کی چند وجوہات بھی ہیں اور اس میں عالمی اور بیرونی وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت جس محل وقوع میں موجود ہے اور جغرافیائی پوزیشن کے لحاظ سے آئندہ میں اس کا جو مقام میں بننے جار ہار ہے اس لحاظ سے بعض دشمن عناصر پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام کو فتنہ و فساد میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام کے پیچھے عالمی اور بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہے جو اپنے آلہ کاروں کے ذریعے وہاں پر اس طرح کے کاروائیاں کرتے ہیں اور اس طرح کے واقعات کے بعد اس کی ذمہ داری کسی شر پسند کی طرف متوجہ کرلیتے ہیں تا کہ یہ بتا سکیں کہ یہ اہل تسنن کی طرف کیا جارہا ہے اور اہل تسنن کے حوالے سے اہل تشیع کے اندر نفرت پیدا کریں۔

 امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے مزید کہا کہ ہیمں عراق میں اس طرح کے واقعات کو پوری طرح جائزہ لیا ہے کہ وہاں کی غیر ملکی ایجنسیاں ہیں جس میں برطانیہ اور امریکہ ہے اور حتی کہ ہمارے مسلمان ممالک میں بھی ایسے لوگ ہیں کہ جو امریکہ کے نقش قدم پر چل رہے ہیں فتنہ و فساد کھڑا کرنے کیلئے لہذا اگر اس نفطہ نظر سے دیکھیں تو حکومت ان طرح کے واقعات کو ادارک نہیں کرسکتی ہے اور بڑے پیمانے پر ان کو ختم نہیں کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن یہ بتانا لازمی ہے کہ اب اس طرح کے واقعات بہت کم ہوئے ہیں وہ پہلے بہت زیادہ تھے ابھی حکومت نے کچھ اقدامات کیے ہیں جیسے کچھ شرپسندوں کو پکڑا ہے اور کچھ لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے جس کی خاطر حالت میں قدرے بہتری آئی ہے۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ حکومت پاکستان، کوئٹہ میں مکمل طور پر امن قائم کرنے کے حوالے سے کامیاب نہیں ہوگئی ہے۔

 انہوں نے حالیہ دنوں میں بعض مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے والے عناصر کے مقاصد کے حوالے سے کہا کہ یورپی یونین کی تشکیل کے بعد امت مسلمہ کے اندر ایک آواز ہے کہ اگر یورپی کے اقوام اتنے بے شمار اختلافات اور جنگوں کے بعد  ایک قوم بن سکتے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ امت مسلمہ جن کی جڑیں یکجا ہیں جن کے نبی ایک ہے جن کے رب ایک ہے اور جن کا دین ایک ہے وہ بھی اسی طرح کے اقدام کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنی معاشیات اور اقتصادیات کے باب کو بھی ایک دوسرے کیلئے کھول دیں اور اس تعلق کے نتیجے میں ایک دوسرے سے سیکھ لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امت مسلمہ کے اندر جو تحریک ہے یہ عالمی اشرار قوتوں کیلئے بہت بڑا چیلنچ ہے اسی لیے وہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح امت مسلمہ کے درمیان ایسے اختلافات پیدا کر دیے جائیں جن کی کوئی جڑیں موجود نہیں اور سارے کے سارے دکھاوے اور مصنوعی ہیں اس طرح سے انہوں نے امت کو بکھیڑنے اور تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے اور جغرافیائی اختلافات اٹھائے ہیں جیسے انہوں متحدہ عرب امارات اور قطر کے درمیان اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی مسائل کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ساتھ عراق اور کویت کے درمیان اور افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان میں بھی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اسی طرح سے کچھ مذہبی اختلافات اٹھانے کی کوشش بھی کی ہے۔

مولوی عبدالحق ہاشمی نے ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے کہا کہ ایران اور پاکستان دو انتہائی قریبی دوست اور بھائی ملک ہیں اور جب تک یہ سیاسی حدود موجود نہیں تھیں یہ سارا خطہ ایک ہی تھا اور جو بلاد فارس تھے اس کا رقبہ دریائے سند تک تھا تو اس اعتبار سے ہمارے آپس میں ایک تاریخی تعلق ہے جو منقطع نہیں ہوسکتا ہمارے درمیان ثقافتی تعلقات کا رشتہ بہت قریب ہے اور اسی وقت پورے خطے اور پاکستان کے اندر ایک دستاویزی زبان تھی اور ساتھ ساتھ جو ساری قدیم دستاویزات بھی ہیں وہ فارسی زبان میں موجود ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہمارا مذہب ایک ہے اور ہمارے آپس میں بہت بے شمار رشتہ ہے اور تجارت کے حوالے سے میں دونوں ملکوں کے درمیان کافی اچھے تعلقات ہیں لیکن اس وقت خاص طور امریکی دھمکیوں اور ایران کیخلاف اس کی لگائی ہوئی پابندیاں یہ سبوں نے ان حکومتوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ایران کیساتھ  اپنے روابط کو منقطع کریں۔

انہوں نے کہا کہ اب ایران اور پاکستان کے درمیان جو گیس پائب لائن منصوبہ ہے اس کو بھی اس پابندیوں کی خاطر روکا گیا ہے جبکہ ہم اپنی حکومت کو بدستور یہ تجویز دے رہے ہیں کہ وہ اس خوف سے نکلیں اور اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچادے کیونکہ پاکستان کو اب توانائی بحران کا شکار ہے اور دوسری طرف بہت بڑی مہنگی قیموں پر قطر سے گیس خریدتی رہتی ہے جبکہ ایران سے گیس درآمد کرنا اس سے زیادہ سستا اور آسان بھی ہے۔

اور اس کے علاوہ یہ ایک برادرانہ ضرورت ہے کہ اگر اس وقت ایران، اپنی گیس اور تیل کیلئے مارکیٹ کی تلاش میں ہے تو ہم اسے ایک بہت بڑی مارکیٹ دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے حکمران در اصل خائف ہیں اور امریکی دباؤ کے اندر ہیں جبکہ انہیں اس خوف سے نکلنا چاہیے جس کے نتیجے میں تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =