ایران کا امریکہ سے خطے میں مہم جوئی کو بند کرنے کا مطالبہ

نیو یارک - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ میں امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی قوم کے خلاف معاشی دہشتگردی اور فوجی مہم جوئی کا سلسلہ بند کرے.

ایران کے مستقل مندوب «مجید تخت روانچی» نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کی ایک اہم نشست کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ متعدد بار ایران کی فضائی حدود کی خلاف وزری کا مرتکب ہوا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں دراندازی کرنے اور تباہ ہونے والے جاسوس امریکی ڈرون پر امریکہ نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا، ایران بحیثیت رکن اقوام متحدہ اور دراندازی کا شکار ہونے والے ملک اس اجلاس میں شرکت کا مکمل حق رکھتا تھا لیکن بدقسمتی سے ہم سے یہ حق چھینا گیا.
انہوں نے کہا کہ آج امریکہ نے یکطرفہ طور پر سلامتی کونسل کو اپنی بات منوائی اور ثابت کردیا کہ وہ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کو دوسرے اراکین کو گمراہ کرنے اور ایران مخالف مہم چلانے کے لئے استعمال کرتا ہے.
ایرانی مندوب نے مزید کہا کہ ہم نے سلامتی کونسل کو باثوق تفصیلات فراہم کیں اور ہمارے شواہد کے مطابق اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جب امریکی ڈرون کو مار گرایا تو وہ غیرقانونی طور پر ایران کی فضائی حدود میں پرواز کررہا تھا.
انہوں نے کہا کہ منشور اقوام متحدہ کی شق 51 کے تحت ایران نے اپنا دفاع کیا اور جاسوس امریکی ڈرون کے خلاف ہمارا بروقت ایکشن عالمی قوانین کے مطابق تھا.
تخت روانچی نے مزید کہا کہ امریکی ڈرون کو مار گرائے جانے کے دن میں ایک اور امریکی جاسوس طیارے جس میں 35 عملے سوار تھے، نے ایران کی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جبکہ ایران نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا.
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی چلتی رہے جبکہ امریکہ نے گزشتہ 26 مئی کو بھی ہماری حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس پر ہم نے تہران میں سوئس سفیر کو طلب کرکے اس پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا.
ایرانی مندوب نے کہا کہ ہم خطے میں کشیدگی نہین چاہتے مگر بعض علاقائی اور غیرعلاقائی ممالک خطرناک صورتحال کے ذریعے کشیدگی کو ہوا دینا چاہتے ہیں.
انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے اسے فوجی مہم جوئی اور ایران کے خلاف معاشی دہشتگردی کو بند کرنا ہوگا.
مجید تخت روانچی نے مزید کہا کہ ریجنل ڈائلاگ فورم سے متعلق ایران کی پیشکش اب بھی موجود ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سلامتی امور پر تمام علاقائی ملکوں سے بات چیت ہوجائے اور اس حوالے سے سربراہ اقوام متحدہ سے بھی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =