امریکی پابندیاں منشیات کیخلاف عالمی تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہیں: ظریف

تہران، ارنا - ایرانی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیاں اور ایرانی عوام کے خلاف معاشی جنگ سے انسداد منشیات کے لئے بین الاقوامی تعاون کو مشکلات کا سامنا ہے.

یہ بات " محمد جواد ظریف" نے پیر کے روز منشیات سے مقابلہ کرنے کے عالمی دن کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک منشیات سے نمٹنے کی روک تھام کے منفی نتائج اور اثرات کی ذمہ دار ہیں۔
ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پالیسی بنانا اور یک طرفہ رویے سے دوری کرکے عالمی تعاون کی مبنی پر منشیات سے مقابلے کرنے کے لئے پر عزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ 31 سال سے پہلے منشیات سے نمٹنے اور عوامی بیداری کو بہتر بنانے کے مقصد سے 21 جون کو منشیات سے مقابلے کرنے کے عالمی دن کو رکھا دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران آج منشیات سے مقابلے کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ منشیات سے مقابلے کرنے کے راستے میں 8800 سے زائد شہید اور 12 ہزار سے زائد افراد مجروح ہوگئے ہیں۔ سالانہ 300 ملین ڈالر سے زائد منشیات سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور روائتی منشیات کے پیدا کرنے والے ملک افغانستان کے ساتھ پڑوسی کی وجہ سے نہ صرف اس ملک بلکہ علاقائی اور عالمی سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران واحد ملک کے طور پر دنیا کی 80 فیصد منشیات کو پکڑنے میں پہلی پوزیشن پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس لعنت کو خاتمے کے لئے باہمی تعاون اور کوشش کرنا چاہئیے۔
تفصیلات کے مطابق، منشیات سے مقابلے کرنے کے عالمی دن کے اجلاس کا ایرانی دارالحکومت تہران میں انعقاد کیا گیا جس میں ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" اور اقوام متحدہ کے نمائندہ "الکزیندر فدولوف" نے شرکت کی۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 4 =