ایران، جوہری معاہدے سے متعلق اگلا فیصلہ بھرپور انداز سے کرے گا: ترجمان

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے کے مغربی فریقین کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے وعدوں پر عمل نہ کریں تو ایران، اس معاہدے کی بعض شقوں پر عمل درآمد کی معطلی سے متعلق اگلا فیصلہ بھرپور انداز سے کرے گا.

یہ بات ترجمان دفترخارجہ «سید عباس موسوی» نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفینگ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.
ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ جب تک دوسرے فریق ایران کے جائز مطالبات کو پورا نہیں کریں گے تب تک ایران بھی بعض حصوں پر اپنے عمل درآمد کو روکے رکھے گا.
اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کے لئے ایران اور بعض ممالک کی سفارتی کوششیں جاری ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ دباو اور غیرتعمیری بیانات کے باوجود خطے میں سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں ایران اور دیگر ممالک خطے کے اندر یا باہر حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کے لئے سرگرم ہیں.
موسوی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا بلکہ اس میں کامی لانے کا خیرمقدم بھی کرتا ہے جبکہ ہم سمجھتے ہیں کی بعض ممالک کی جانب سے معاہدوں کی عدم پاسداری اور معاشی دہشتگردی علاقائی کشیدگی کی اصل جڑ ہے.
انہوں نے ایران میں جاسوس امریکی ڈرون کی حالیہ دراندازی سے متعلق کہا کہ ایران کے سیاسی اور سفارتی اقدامات کے علاوہ اس دراندازی کے خلاف عالمی سطح پر قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی جس کے سلسلے میں ایران نے صدر اسلامی کونسل کو خصوصی مراسلہ بھیج دیا تھا.
ترجمان نے ایران جوہری معاہدے کے مستقبل پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کا قائم رہنا دیگر فریقین کی شفاف پاسداری پر منحصر ہے، امریکہ کی غیرقانونی علیحدگی کے بعد دوسرے فریقین نے عہد کیا تھا کہ وہ اس عالمی معاہدے کو بچالیں گے مگر اس کے لئے پختہ عزم سامنے نہیں آیا جس کے ردعمل میں ایران مجبور ہوا کہ جوہری معاہدے کی بعض شقوں پر عمل درآمد کو روکے.
انہوں نے جوہری معاہدے سے متعلق روس کے حالیہ مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، یورپ کا انتظار نہیں کرتا بلکہ روس سمیت اپنے دوست ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے جن کے ساتھ تجارتی، مالیاتی اور بینکاری تعاون کا آغاز کیا ہے.
ترجمان دفترخارجہ نے بحری جہازوں پر حملے سے متعلق ایران مخالف نائب برطانوی وزیر خارجہ کے الزام سے متعلق کہا کہ ہم برطانیہ کے ایسے رویے کو غیرتعمیری سمجھتے ہیں.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 0 =