23 جون، 2019 7:06 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 83366608
0 Persons
'بی ٹیم' ترمپ کو جنگ کے دہانے پر لاچکی تھی: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی ویر خارجہ نے ٹیم بی کیجانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم بی ٹرمپ کو جنگ کے دلدل میں پھسنوانے سے چند قدم کے فاصلے پر تھی، عقل مندی کی بدولت اس واقعے کو روکا گیا لیکن معاشی دہشتگردی کشیدگی کا باعث بنتی ہے۔

"محمد جواد ظریف" نے ایک ٹوئٹر پیغام کے ذریعے کہا کہ مزید معلومات بشمول 26 مئی کو امریکی جاسوسی ڈرون "MQ 9" کی ایرانی سمندی حدود کی خلاف ورزی اور بحری جہازوں پر حملے کے الزام کو ایران پر لگانے کے لئے رڈار کشتیوں کو خریدنے اور اس حوالے سے ٹیلی فونک رابطوں کی منصوبہ بندیوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ٹیم بی ٹرمپ کو جنگ کے دلدل میں پھسنوانے سے چند قدم کے فصلے پر تھی، عقل مندی کی بدولت اس واقعے کو روکا گیا لیکن معاشی دہشتگردی کشیدگی کا باعث بنتی ہے۔

یاد رہے کہ پاسداران اسلامی انقلاب فورس نے 20 جون کو  ملک کے جنوبی 'کوہ مبارک' علاقے میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے 'گلوبل ہاک' نامی جاسوس امریکی ڈرون کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فوری طور پر مارگرایا.

امریکی جاسوسی ڈرون کی شناخت کے ایک ہی وقت میں اس کے قریب ایک اور 35 عملے پر مشتمل جاسوسی طیارہ پرواز کر رہا تھا مگر ایران نے اس کو تباہ نہیں کردیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے تین جولائی 1988 میں اپنے سمندری جنگی جہاز کے ذریعے ایران کے مسافربردار طیارے کو مار گرایا جس کے نتیجے میں 290 ایرانی شہری شہید ہوگئے۔

امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس ونسنز نے تین جولائی 1988 کو اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی کمپنی ایران ایئر کے دبئی جانے والے ایئر بس اے-300 طیارے کو مار گرایا جس میں 66 بچوں سمیت 290 افراد شہید ہوگئے.

یہ واقعہ فضائی سانحوں کی تاریخ میں انسانی جانی نقصان کے حوالے سے اپنی نوعیت میں آٹھواں بدترین سانحہ تھا.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 7 =