موجودہ صورتحال میں تبدیلی لانے کیلئے یورپ کے پاس وقت بہت کم ہے: ایران

تہران، ارنا-  اعلی ایرانی سفارتکار نے جوہری معاہدے سے متعلق یورپ کی کارگردکی کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بین الاقوامی کے حصول سے اب تک یورپ نے کئی بار اپنے کیے گئے وعدوں پر جلدی سے عمل درآمد کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اب تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اب تک جوہری معاہدے سے متعلق یورپ کیجانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل کرنے کے حوالے سے  کئی بار "مستقبل قریب" کے لفظ کو سن لیا ہے لیکن یورپ نے کچھ کرکے دیکھایا نہیں۔

ایران کی خارجہ تعلقات اسٹریٹجک کونسل کے چیئرمین "سید کمال خرازی" نے مزید کہا کہ یورپ کے پاس اپنے وعدوں پر عمل کرنے کیلئے صرف دو ہفتے کیلئے وقت باقی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سید کمال خزاری" نے نائب برطانوی وزیر خارجہ برائے مشرق وسطی امور "اندور موریسون" کیساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے کی شقوں نمبر 26 اور 36 کی مطابق اس معاہدے کے بععض اصولوں سے جزوی دستبرداری کے حوالے سے اپنے کیے گئے فیصلے پر سنجیدہ ہے۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے مزید کہا کہ  اگر یورپ، آئندہ ہفتوں کے اندر کوئی عملی اقدام نہ اٹھائے تو اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے کے حوالے سے مزید اقدامات کرے گا۔

خرازی نے مزید کہا کہ البتہ ان اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ ایران، جوہری معاہدے سے علیحدگی ہوجائے گا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ جوہری معاہدے کے یورپی فریقین، ایران کے 60 روزہ الٹی میٹم کے اختتام سے پہلے ایک ایسی مناسب حکمت عملی اپنائیں جس کی بنا پر ایران اور یورپ کے درمیان تجارتی تعلقات بحال ہوجائیں اور یورپ پوری آزادی اور خودمختاری کیساتھ ایران مخالف امریکی پابندیوں کی پیروی نہیں کرے گا۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے خلیج فارس میں حادثے کا شکار ہونے والے تیل بردار بجری جہازوں کے مسئلے کے حوالے سے برطانیہ کے موقف کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کے معاملات سے متعلق برطانوی رویہ ناقابل قبول ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 7 =