ایران نے 35 عملے پر مشتمل جاسوسی طیارے  کو تباہ نہیں کردیا

تہران، 21 جون، ارنا – ایرانی سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب کے فضائیہ کمانڈر نے کہا ہے کہ امریکی جاسوسی ڈرون کی شناخت کے ایک ہی وقت میں اس کے قریب ایک اور 35 عملے پر مشتمل جاسوسی طیارہ پرواز کر رہا تھا مگر ہم نے اس کو تباہ نہیں کردیا۔

یہ بات بریگیڈئیر جنرل "امیرعلی حاجی زادہ" نے جمعہ کے روز صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز امریکی جاسوس ڈرون کو مارنے کے موقع پر ایک اور 35 عملے پر مشتمل جاسوسی طیارے نے ایرانی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جو ہم نے اسے تباہ نہیں کردیا۔

جنرل حاجی زادہ نے کہا کہ امریکی جاسوس ڈرون نے جمعرات کے روز ہمارے انتباہوں پر کوئی توجہ کے بغیر  ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی  ہم نے اسے کامیابی سے مارگرایا.

یاد رہے کہ  پاسداران اسلامی انقلاب فورس کے مطابق، امریکی ڈرون کو جنوبی صوبے ہرمزگان کے علاقے «کوہ مبارک» میں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مارگرایا گیا.

بیان کے مطابق، امریکی ڈرون کا نام «گلوبل ہاک» ہے جس نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے کوہ مبارک کے علاقے میں شناخت اور فوری طور پر مار گرایا گیا.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے تین جولائی 1988 میں اپنے سمندری جنگی جہاز کے ذریعے ایران کے مسافربردار طیارے کو مار گرایا جس کے نتیجے میں 290 ایرانی شہری شہید ہوگئے۔

امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس ونسنز نے تین جولائی 1988 کو اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی کمپنی ایران ایئر کے دبئی جانے والے ایئر بس اے-300 طیارے کو مار گرایا جس میں 66 بچوں سمیت 290 افراد شہید ہوگئے.

یہ واقعہ فضائی سانحوں کی تاریخ میں انسانی جانی نقصان کے حوالے سے اپنی نوعیت میں آٹھواں بدترین سانحہ تھا.

9393٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 0 =