امریکہ، معاشی دہشتگردی کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے: ظریف

تہران، 13 جون، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ معاشی دہشتگردی کے ذریعے ایرانی قوم پر دباؤ ڈال رہا ہے تا کہ وہ اپنے سیاسی اہداف حاصل کرسکے.

«محمد جواد ظریف» نے العربی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ جب تک ایران کے خلاف معاشی دہشتگردی ختم نہ ہو ایران، ہرگز امریکہ سے مذاکرات نہیں کرے گا.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر کے دعوے کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف معاشی جنگ پر اترا ہوا ہے، جنگ کا مطلب جنگ ہی ہے اور ایسی معاشی جنگ کا اصل مقصد عام عوام کو نشانہ بنانا ہے.
ظریف کے مطابق، امریکہ ایرانی قوم پر معاشی دہشتگردی مسلط کر رکھی ہے، دنیا میں کوئی دہشتگرد سے مذاکرات نہیں چاہتا لہذا دہشتگردوں کو چاہئے کہ اپنے اقدامات کو بند کریں.
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی جنگ اور معاشی جنگ میں کوئی فرق نہیں جبکہ اس صورتحال سے خطے کو سب سے بڑا نقصان ہوگا.
ایرانی وزیر خارجہ نے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمارے خطی ممالک کے ساتھ اچھے مراسم ہیں صرف دو یا تین ملک ایسے ہیں جو اپنی سلامتی کیلئے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں، یقینا یہ ممالک غلطی کا شکار ہیں جبکہ امریکہ انھیں ناجائز صہیونی ریاست کی خاطر استعمال کررہا ہے.
انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال خطرناک ہے جس کی اصل وجہ ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کی معاشی جنگ ہے، یہ ایک غیرقانونی جنگ ہے جس کا آغاز ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی کے بعد ہوا.
ظریف نے مزید کہا کہ امریکہ جان لے، ایران کو اس کی ضرورت نہیں اور نہ ہی امریکہ ایران کے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات میں مداخلت کرے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے لئے امریکہ دوسرے ملکوں پر دباو نہ ڈالے.
انہوں نے خطے میں ایرانی مداخلت سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں سعودی اور اماراتی کیا کررہے ہیں؟ کیا ہم لیبیا یا سوڈان میں موجود ہیں؟ الزام لگانے والے بتائیں کہ وہ خود کیا کررہے ہیں اور وہ اپنے الزامات کا کس طرح جواز دے سکتے ہیں؟
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 1 =