جاپانی وزیراعظم کا دورہ ایران باہمی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے: صدر روحانی

تہران، 13 جون، ارنا - ایرانی صدر نے جاپانی وزیراعظم کے دورہ ایران کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ یہ دورہ تہران ٹوکیو تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا.

یہ بات ڈاکٹر «حسن روحانی» نے تہران میں وزیراعظم «شنزو ابے» کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی جہاں دونوں ملکوں کے کے اعلی سطحی وفود بھی شریک تھے.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک جاپان کے ساتھ تعلقات کی توسیع کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور ہمیں امید ہے کہ وزیراعظم شنزو ابے کے اس دورے سے باہمی تعلقات مزید بلندیوں کو چھوئیں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ اس وقت ہورہا ہے جب ایران جاپان تعلقات کو 90 سال پورے ہورہے ہیں اور جاپان میں نئے شہنشاہ نے اقتدار سنبھالا ہے. ایران، جاپان کے ساتھ موجودہ دیرینہ اور مضبوط تعلقات کو مزید بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے.
ایرانی صدر نے ملک کے جنوبی علاقے بالخصوص چابہار بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبوں میں جاپان کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان صحت اور توانائی کے معاہدوں کے جلد نفاذ کی ضرورت پر زور دیا.
انہوں نے ایران جوہری معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ تمام فریقین کو چاہئے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت جوہری معاہدے پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے جاپان بھی اپنا کردار ادا کرے گا.
ڈاکٹر روحانی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پامالی ہرگز کسی کے فائدے میں نہیں ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ خطے میں موجودہ تشویشناک صورتحال کا ذمہ دار ہے اور اس نے اس کشیدگی کا آغاز ایرانی قوم کے خلاف مسلط کردہ معاشی جنگ سے کیا.
ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ ایران نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مثالی کردار ادا کیا، اگر ہماری کوششیں نہ ہوتیں تو آج داعش نے پورے خطے کو تباہ کردیا ہوتا. ایران علاقائی مسائل پر جاپان کے ساتھ مشاورت کے لئے آمادہ ہے اور اس کے علاوہ ہم شام کی تعمیر نو اور یمن میں عوام کی مدد کے لئے بھی تعاون پر آمادہ ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا ایران کسی بھی ملک بشمول امریکہ سے کشیدگی نہیں چاہتا تاہم جارحیت کی صورت میں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا.
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ جاپان امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کا شکار رہا ہے اور ایران بھی صدام حسین کے کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنا ہے جبکہ ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے پیچھے نہیں بلکہ اس کے پُرامن استعمال کا خواہاں ہے.
انہوں نے کہا کہ ایران افغان مہاجرین کی میزبانی اور انسداد منشیات پر سالانہ 8 ارب ڈالر خرچ کررہا ہے مگر آج غیرمنصفانہ پابندیوں اور معاشی دباو کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے.
ڈاکٹر روحانی نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران اور جاپان کے قریبی تعاون کے ذریعے ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھ پائیں گے.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے سب سے پہلے ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کے معاشی دباو کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، ہم سب چاہتے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کی بالادستی ہو لہذا اس کے لئے معاشی پابندیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے.
ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ ایران، جوہری معاہدے سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا، اور حالیہ مہینوں میں جو بھی قدم اٹھایا وہ جوہری معاہدے کی شق نمبر 36 کے تحت تھا اور ہمیں امید ہے کہ امریکہ اپنا لہجہ بدلنے کے علاوہ عملی اقدامات اٹھائے.
اس نشست میں جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے 1983 میں بحیثیت معاون خصوصی برائے جاپانی وزیرخارجہ ایران کا دورہ کیا تھا اور اس کا مقصد بھی خطے میں امن و سلامتی کو مضبوط کرنا تھا.
انہوں نے مزید کہا کہ جاپان، ایران کا قریبی دوست ہے جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش بھی ہے.
شنزو ابے نے کہا کہ ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے، جوہری معاہدے سے متعلق ایران کی شفاف کارکردگی کو سراہتے ہیں جسے عالمی جوہری ادارے نے بھی بارہا تصدیق کرچکا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے معاشی تعاون اور تیل کی خریداری پر امریکہ سے سنجیدہ مذاکرات کئے گئے ہیں ہماری خواہش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعاون اور ایرانی تیل کی خریداری کا سلسلہ جاری رہے.
جاپانی وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے دورے کا مقصد خطے میں کشیدگی کو ختم کرانا ہے اور انھیں امید ہے کہ اس دورے سے علاقائی امن و استحکام کو مزید تقویت ملے گی.
9410٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 8 =